تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 31

وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ بے شک میں ایک فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں جنھیں تمھاری آنکھیں حقیر سمجھتی ہیں، یہ کہتا ہوں کہ اللہ انھیں ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا،اللہ اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، یقینا میں تو اس وقت ظالموں سے ہوں گا۔ En
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
En
میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے گا ہی نہیں، ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ﻇالموں میں ہو جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ ﴿ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے رازِدروں کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں۔
﴿ وَّلَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَ٘نْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّیْۤ اِذًا بے شک میں تب یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّ٘مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ظالموں میں سے ہوں گا یہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا أقول لكم عندي خزائنُ الله ولا أعلم الغيبَ ولا أقولُ إني مَلَكٌ}؛ أي: غايتي أني رسولُ الله إليكم؛ أبشِّركم وأنذركم، وما عدا ذلك؛ فليس بيدي من الأمر شيء، فليست خزائن الله عندي أدبِّرها أنا وأعطي مَنْ أشاء وأحْرُمُ مَن أشاء. {ولا أعلمُ الغيبَ}: فأخبركم بسرائِرِكم وبواطنكم، {ولا أقولُ إني مَلَك}: والمعنى أني لا أدَّعي رتبةً فوق رتبتي، ولا منزلةً سوى المنزلة التي أنزلني الله بها، ولا أحكم على الناس بظنِّي، فلا {أقول للذين تَزْدَري أعيُنكم}؛ أي: الضعفاء المؤمنين الذين يحتقرهم الملأ الذين كفروا؛ {لن يؤتيهم الله خيراً اللهُ أعلم بما في أنفسِهم}: فإن كانوا صادقينَ في إيمانهم؛ فلهم الخير الكثير، وإن كانوا غير ذلك؛ فحسابهم على الله. {إني إذاً}؛ أي: إن قلتُ لكم شيئاً ممَّا تقدَّم، {لمن الظَّالمين}: وهذا تأييس منه عليه الصلاة والسلام لقومِهِ أن ينبذَ فقراء المؤمنين أو يمقتهم، وتقنيع لقومه بالطُّرق المقنعة للمنصف.