تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوح علیہ السلام ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوح علیہ السلام سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوح علیہ السلام سے کہا: ﴿ قَالُوْایٰنُوْحُقَدْجٰدَلْتَنَافَاَكْثَرْتَجِدَالَنَافَاْتِنَابِمَاتَعِدُنَاۤاِنْكُنْتَمِنَالصّٰؔدِقِیْنَ ﴾”اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے“ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ”اے نوح! علیہ السلام آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں “… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔
مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رأوه لا ينكفُّ عما كان عليه من دعوتهم ولم يدرِكوا منه مطلوبَهم؛ {قالوا يا نوحُ قد جادَلْتنا فأكثرتَ جِدالنا فأتِنا بما تَعِدُنا} [من العذابِ] {إنْ كنتَ من الصادقين}: فما أجهلهم وأضلَّهم! حيثُ قالوا هذه المقالة لنبِّيهم الناصح؛ فهلاَّ قالوا إن كانوا صادقين: يا نوحُ! قد نصحتَنا وأشفقتَ علينا ودعوتَنا إلى أمرٍ لم يتبيَّن لنا فنريدُ منك أن تبيِّنه لنا لننقادَ لك، وإلاَّ فأنت مشكورٌ في نصحك؛ لكان هذا الجواب المنصف للذي قد دُعِيَ إلى أمرٍ خفي عليه، ولكنهم في قولهم كاذبون، وعلى نبيهم متجرِّئون، ولم يردُّوا ما قاله بأدنى شبهةٍ فضلاً عن أن يردُّوه بحجَّة، ولهذا عدلوا من جهلهم وظلمهم إلى الاستعجال بالعذاب وتعجيز الله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔