تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْۤ اَعْيُنُكُمْ …: ” تَزْدَرِيْۤ “} اس کا مادہ {” زري“} ہے، {” زَرَيْتُ عَلَيْهِ “} میں نے اس پر عیب لگایا۔ باب افتعال میں جا کر افتعال کی تاء کو دال کے ساتھ بدلنے سے {”اِزْدَرَي يَزْدَرِيْ اِزْدِرَاءً“} بن گیا، جس کا معنی حقیر جاننا ہے۔ (قاموس) یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض تمھیں خوش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں اس قسم کی جاہلانہ بات کہوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ چیزیں (اللہ کے خزانوں کا مالک ہونا، عالم الغیب ہونا، فرشتہ ہونا) نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں کہ ان کے بغیر نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ان چیزوں کے کسی شخص کے پاس نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر خیر سے خالی ہے اور جو شخص مال دار نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر بھی حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ناتوانوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو دم بھر میں ذلیل کر دیتا ہے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اپنے رب پر ایمان اور اس کے رسول کی پیروی کی بدولت تم سے زیادہ باعزت اور شریف ہیں۔ (روح المعانی)
➌ { اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ:} اگر ان کے دلوں میں ایمان اور اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں ضرور اجر پائیں گے، تم اور میں مل کر بھی انھیں اس اجر سے محروم نہیں کر سکتے۔
➍ { اِنِّيْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی اگر میں انھیں خواہ مخواہ ذلیل قرار دوں۔ یہ اشارہ ہے کہ تم انھیں رذالے کہنے میں ظالم ہو، یا یہ کہ اگر میں خزائنِ الٰہی کو جمع کرنے یا غیب کے جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کروں تو میں ظالموں میں سے ہوں گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا أقول لكم عندي خزائنُ الله ولا أعلم الغيبَ ولا أقولُ إني مَلَكٌ}؛ أي: غايتي أني رسولُ الله إليكم؛ أبشِّركم وأنذركم، وما عدا ذلك؛ فليس بيدي من الأمر شيء، فليست خزائن الله عندي أدبِّرها أنا وأعطي مَنْ أشاء وأحْرُمُ مَن أشاء. {ولا أعلمُ الغيبَ}: فأخبركم بسرائِرِكم وبواطنكم، {ولا أقولُ إني مَلَك}: والمعنى أني لا أدَّعي رتبةً فوق رتبتي، ولا منزلةً سوى المنزلة التي أنزلني الله بها، ولا أحكم على الناس بظنِّي، فلا {أقول للذين تَزْدَري أعيُنكم}؛ أي: الضعفاء المؤمنين الذين يحتقرهم الملأ الذين كفروا؛ {لن يؤتيهم الله خيراً اللهُ أعلم بما في أنفسِهم}: فإن كانوا صادقينَ في إيمانهم؛ فلهم الخير الكثير، وإن كانوا غير ذلك؛ فحسابهم على الله. {إني إذاً}؛ أي: إن قلتُ لكم شيئاً ممَّا تقدَّم، {لمن الظَّالمين}: وهذا تأييس منه عليه الصلاة والسلام لقومِهِ أن ينبذَ فقراء المؤمنين أو يمقتهم، وتقنيع لقومه بالطُّرق المقنعة للمنصف.