ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 31

وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ بے شک میں ایک فرشتہ ہوں اور نہ میں ان لوگوں کے بارے میں جنھیں تمھاری آنکھیں حقیر سمجھتی ہیں، یہ کہتا ہوں کہ اللہ انھیں ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا،اللہ اسے زیادہ جاننے والا ہے جو ان کے دلوں میں ہے، یقینا میں تو اس وقت ظالموں سے ہوں گا۔ En
میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں
En
میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، (سنو!) میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت دے گا ہی نہیں، ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ﻇالموں میں ہو جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ …: } یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظر آتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے برتر نہیں پاتے۔ اس پر نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت بخشی ہے۔ میرا یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے، اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کر لو۔
➋ {وَ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْۤ اَعْيُنُكُمْ …: تَزْدَرِيْۤ } اس کا مادہ { زري} ہے، { زَرَيْتُ عَلَيْهِ } میں نے اس پر عیب لگایا۔ باب افتعال میں جا کر افتعال کی تاء کو دال کے ساتھ بدلنے سے {اِزْدَرَي يَزْدَرِيْ اِزْدِرَاءً} بن گیا، جس کا معنی حقیر جاننا ہے۔ (قاموس) یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض تمھیں خوش کرنے کے لیے ان لوگوں کے بارے میں اس قسم کی جاہلانہ بات کہوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ مذکورہ چیزیں (اللہ کے خزانوں کا مالک ہونا، عالم الغیب ہونا، فرشتہ ہونا) نبوت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتیں کہ ان کے بغیر نبوت نہیں مل سکتی اور نہ ان چیزوں کے کسی شخص کے پاس نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر خیر سے خالی ہے اور جو شخص مال دار نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خیر بھی حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ناتوانوں کو عزت دیتا ہے اور عزت والوں کو دم بھر میں ذلیل کر دیتا ہے۔ اس وقت بھی یہ لوگ اپنے رب پر ایمان اور اس کے رسول کی پیروی کی بدولت تم سے زیادہ باعزت اور شریف ہیں۔ (روح المعانی)
➌ { اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ:} اگر ان کے دلوں میں ایمان اور اخلاص ہے تو اللہ کے ہاں ضرور اجر پائیں گے، تم اور میں مل کر بھی انھیں اس اجر سے محروم نہیں کر سکتے۔
➍ { اِنِّيْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ:} یعنی اگر میں انھیں خواہ مخواہ ذلیل قرار دوں۔ یہ اشارہ ہے کہ تم انھیں رذالے کہنے میں ظالم ہو، یا یہ کہ اگر میں خزائنِ الٰہی کو جمع کرنے یا غیب کے جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ کروں تو میں ظالموں میں سے ہوں گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کی صورت میں خیر عظیم عطا کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ آخرت میں بھی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو بلند مرتبے سے ہمکنار ہوں گے۔ گویا تمہارا ان کو حقیر سمجھنا ان کے لئے نقصان کا باعث نہیں، البتہ تم ہی عند اللہ مجرم ٹھہرو گے کہ اللہ کے نیک بندوں کو، جن کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، تم حقیر اور فرومایہ سمجھتے ہو۔ 31۔ 2 کیونکہ میں ان کی بابت ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں، صرف اللہ جانتا ہے، تو یہ ظلم ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے [38] ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب جانتا ہوں، نہ یہ کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقیر سمجھتے ہو۔ اللہ انھیں کبھی بھلائی سے نوازے گا ہی نہیں۔ جو ان کے دلوں میں ہے وہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ اگر میں ان سب باتوں سے کوئی بھی بات کہوں تو یقیناً میں ظالموں سے ہو جاؤں گا
[38] جاہلانہ معیار صداقت کی تردید:۔
جاہل قسم کے منکرین حق کے نزدیک کسی نبی کی صداقت کے معیار عجیب قسم کے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس سے خرق عادت واقعات یعنی معجزات کا اکثر صدور ہوتا ہو وہ مٹی پر نظر التفات کرے تو وہ سونا بن جائے وہ یہ بھی بتا سکے کہ فلاں چوری فلاں چور نے فلاں وقت کی تھی اسے طالب دنیا بھی نہ ہونا چاہیے کہ وہ عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو اور نکاح وغیرہ بھی کرے بلکہ اسے دنیا سے دلچسپی نہ ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اسی جاہلانہ معیار صداقت کی تردید کی گئی ہے۔ نوحؑ کی زبان سے کفار کے ایسے مطالبات کا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا گیا ہے کہ میرا ایسی باتوں کا ہرگز کچھ دعویٰ نہیں ہے میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں کہ میں مٹی یا پتھر پر نظر کرم ڈالوں تو وہ سونا بن جائے میں غیب بھی نہیں جانتا کہ میں تمہیں بتلا سکوں کہ اس وقت تمہارے دل میں کیا خیال آرہا ہے یا فلاں چوری فلاں شخص نے فلاں وقت کی تھی اور اس طریقہ سے کی تھی اور اب چوری کا مال فلاں جگہ پر چھپایا ہوا ہے میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ میں فرشتہ ہوں کہ مجھے کھانے پینے کی احتیاج نہ ہو یا دوسرے بشری حوائج سے مبرا ہوں۔ نیز جن لوگوں کو تم حقیر سمجھ رہے ہو میں ان کے مستقبل کے متعلق بھی کچھ نہیں جانتا البتہ جس راہ پر یہ گامزن ہیں اس بات کی توقع ضرور رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں علم و حکمت اور دوسری بھلائیوں سے نوازے گا مگر یہ بات میں دعویٰ کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں غیب کی باتیں نہیں جانتا۔ واضح رہے کہ کچھ اسی قسم کے معیار ہم نے بھی بزرگان دین سے متعلق وابستہ کر رکھے ہیں حالانکہ جو لوگ دعویٰ کے ساتھ انھیں دکھلاتے ہیں وہ شعبدہ باز تو ہو سکتے ہیں اللہ کے ولی نہیں ہو سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے ٭٭
آپ علیہ السلام فرماتے ہیں میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ» کی عبادت اور توحید کی طرف اس کے فرمان کے مطابق تم سب کو بلاتا ہوں۔ اس سے میری مراد تم سے مال سمیٹنا نہیں۔ ہر بڑے چھوٹے کے لیے میری دعوت عام ہے جو قبول کرے گا نجات پائے گا۔ اللہ کے خزانوں کے ہیر پھیر کی مجھ میں قدرت نہیں۔ میں غیب نہیں جانتا ہاں جو بات اللہ مجھے معلوم کرا دے معلوم ہو جاتی ہے۔ میں فرشتہ ہونے کا دعویدار نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جس کی تائید اللہ کی طرف سے معجزوں سے ہو رہی ہے۔ جنہیں تم رذیل اور ذلیل سمجھ رہے ہو۔ میں تو اس کا قائل نہیں کہ انہیں اللہ کے ہاں ان کی نیکیوں کا بدلہ نہیں ملے گا۔ ان کے باطن کا حال بھی مجھے معلوم نہیں اللہ ہی کو اس کا علم ہے۔ اگر ظاہر کی طرح باطن میں بھی ایماندار ہیں تو انہیں اللہ کے ہاں ضرور نیکیاں ملیں گی جو ان کے انجام کی برائی کو کہے اس نے ظلم کیا اور جہالت کی بات کہی۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ ﴿ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے رازِدروں کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں۔
﴿ وَّلَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَ٘نْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّیْۤ اِذًا بے شک میں تب یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّ٘مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ظالموں میں سے ہوں گا یہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا أقول لكم عندي خزائنُ الله ولا أعلم الغيبَ ولا أقولُ إني مَلَكٌ}؛ أي: غايتي أني رسولُ الله إليكم؛ أبشِّركم وأنذركم، وما عدا ذلك؛ فليس بيدي من الأمر شيء، فليست خزائن الله عندي أدبِّرها أنا وأعطي مَنْ أشاء وأحْرُمُ مَن أشاء. {ولا أعلمُ الغيبَ}: فأخبركم بسرائِرِكم وبواطنكم، {ولا أقولُ إني مَلَك}: والمعنى أني لا أدَّعي رتبةً فوق رتبتي، ولا منزلةً سوى المنزلة التي أنزلني الله بها، ولا أحكم على الناس بظنِّي، فلا {أقول للذين تَزْدَري أعيُنكم}؛ أي: الضعفاء المؤمنين الذين يحتقرهم الملأ الذين كفروا؛ {لن يؤتيهم الله خيراً اللهُ أعلم بما في أنفسِهم}: فإن كانوا صادقينَ في إيمانهم؛ فلهم الخير الكثير، وإن كانوا غير ذلك؛ فحسابهم على الله. {إني إذاً}؛ أي: إن قلتُ لكم شيئاً ممَّا تقدَّم، {لمن الظَّالمين}: وهذا تأييس منه عليه الصلاة والسلام لقومِهِ أن ينبذَ فقراء المؤمنين أو يمقتهم، وتقنيع لقومه بالطُّرق المقنعة للمنصف.