تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 30

وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اوراے میری قوم! اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں انھیں دور ہٹا دوں؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟ En
اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟
En
میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مدد کون کر سکتا ہے؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوْنَ کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويا قومِ مَن ينصُرني من الله إن طَرَدْتُهم}؛ أي: مَن يمنعني من عذابِهِ؛ فإنَّ طردهم موجب للعذاب والنَّكال الذي لا يمنعه من دون الله مانع. {أفلا تذكَّرونَ}: ما هو الأنفع لكم والأصلح وتدبَّرون الأمور؟!