تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیٰقَوْمِمَنْیَّنْصُرُنِیْمِنَاللّٰهِاِنْطَرَدْتُّهُمْ﴾”اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟“ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَاتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔“ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويا قومِ مَن ينصُرني من الله إن طَرَدْتُهم}؛ أي: مَن يمنعني من عذابِهِ؛ فإنَّ طردهم موجب للعذاب والنَّكال الذي لا يمنعه من دون الله مانع. {أفلا تذكَّرونَ}: ما هو الأنفع لكم والأصلح وتدبَّرون الأمور؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔