تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 22

لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾
کوئی شک نہیں کہ وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں
En
بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا جَرَمَ بلاشبہ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْ٘سَرُوْنَ وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا جرم}؛ أي: حقًّا وصدقاً، {أنهم في الآخرة هم الأخسرون}: حصر الخسار فيهم، بل جعل لهم منه أشدَّه؛ لشدة حسرتهم وحرمانهم وما يعانون من المشقَّة من العذاب، فنستجير بالله من حالهم.