تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 21

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے۔ En
یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا
En
یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وه سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين خسروا أنفسهم}: حيث فوَّتوها أعظم الثواب واستحقُّوا أشدَّ العذاب، {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترون}؛ أي: اضمحلَّ دينُهم الذي يدعون إليه ويحسِّنونه، ولم تغنِ عنهم آلهتُهم التي يعبدون من دون الله لمَّا جاء أمرُ ربِّك.