تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 23

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کی طرف عاجزی کی وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ یہی صاحب جنت ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے
En
یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وه ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا جولوگ ایمان لائے۔ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور عمل نیک کیے۔ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں۔ ﴿ وَاَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ یہییعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصْحٰؔبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ جنتی ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {إنَّ الذين آمنوا}: بقلوبهم؛ أي: صدقوا واعترفوا لما أمر الله بالإيمان به من أصول الدين وقواعده، {وعملوا الصالحات}: المشتملة على أعمال القلوب والجوارح وأقوال اللسان، {وأخْبَتوا إلى ربِّهم}؛ أي: خضعوا له واستكانوا لعظمته وذلوا لسلطانه، وأنابوا إليه بمحبته وخوفه ورجائه والتضرُّع إليه. {أولئك}: الذين جمعوا تلك الصفات، {أصحابُ الجنة هم فيها خالدون}: لأنهم لم يتركوا من الخير مطلباً إلا أدركوه، ولا خيراً إلا سَبَقوا إليه.