ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 22

لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾
کوئی شک نہیں کہ وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں
En
بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 21 میں تا آیت 23 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت میں یہی سب سے زیادہ نقصان [27] اٹھانے والے ہیں
[27] ایک شخص اللہ کے کسی حکم کی تعمیل ہی نہیں کرتا اسے اس کی سزا ملے گی اور ایک دوسرا شخص تعمیل تو کرتا ہے مگر غلط طریقے سے کرتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی اس میں شریک بنا لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس غلط تعمیل کرنے والے کو زیادہ نقصان ہو گا ایک تو اس نے تعمیل کی مشقت اٹھائی دوسرے اسے سزا بھی زیادہ ملے تو اس سے بڑھ کر زیادہ نقصان اٹھانے والا کون ہو سکتا ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا جَرَمَ بلاشبہ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْ٘سَرُوْنَ وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا جرم}؛ أي: حقًّا وصدقاً، {أنهم في الآخرة هم الأخسرون}: حصر الخسار فيهم، بل جعل لهم منه أشدَّه؛ لشدة حسرتهم وحرمانهم وما يعانون من المشقَّة من العذاب، فنستجير بالله من حالهم.