(آیت 22،21){ وَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْايَفْتَرُوْنَ …:} یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہو گئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہو گی۔ وہ سب ان سے غائب ہو جائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۵، ۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جو کچھ وہ افترا [26] پردازیاں کرتے تھے، سب انھیں بھول جائیں گی
[26] یہاں افتراء پردازیوں سے مراد وہی سستی نجات کے عقیدے ہیں کہ مثلاً اگر ہم فلاں بزرگ کی بیعت میں منسلک ہو جائیں گے تو وہ ہمیں اللہ کی گرفت اور باز پرس سے بچا لیں گے اور ایسی بہت سی حکایات آج بھی اولیاء کے تذکروں میں موجود ہیں۔ جب اس قسم کے لوگ قیامت کی ہولناکیوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار عدالت اور شہادتوں کی بنا پر تحقیق جرائم کا نقشہ دیکھیں گے تو ایسے سب عقائد از خود ان کے ذہن سے محو ہو جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَخَسِرُوْۤااَنْفُسَهُمْ ﴾”وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو“ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّعَنْهُمْمَّاكَانُوْایَفْتَرُوْنَ ﴾”اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے“ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولئك الذين خسروا أنفسهم}: حيث فوَّتوها أعظم الثواب واستحقُّوا أشدَّ العذاب، {وضلَّ عنهم ما كانوا يفترون}؛ أي: اضمحلَّ دينُهم الذي يدعون إليه ويحسِّنونه، ولم تغنِ عنهم آلهتُهم التي يعبدون من دون الله لمَّا جاء أمرُ ربِّك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔