تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 20

اُولٰٓئِکَ لَمۡ یَکُوۡنُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ۘ یُضٰعَفُ لَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ مَا کَانُوۡا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَ مَا کَانُوۡا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾
یہ لوگ کبھی زمین میں عاجز کرنے والے نہیں اور نہ کبھی ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہیں، ان کے لیے عذاب دگنا کیا جائے گا۔ وہ نہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھا کرتے تھے۔ En
یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے
En
نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا، ان کے لئے عذاب دگنا کیا جائے گا نہ یہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ یہ دیکھتے ہی تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ دوگنا ہے ان کے لیے عذاب ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ السَّمْعَ نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ۰۰كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ (المدثر: 74؍49-51) انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں۔ ﴿ وَمَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ اور نہ دیکھتے تھے یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك لم يكونوا معجزِين في الأرض}؛ أي: ليسوا فائتين الله؛ لأنهم تحت قبضته وفي سلطانه، {وما كان لهم مِن دونِ الله من أولياء}: فيدفعون عنهم المكروهَ أو يحصِّلون لهم ما ينفعهم، بل تقطَّعت بهم الأسباب. {يضاعفُ لهم العذابُ}؛ أي: يغلَّظ ويزداد؛ لأنَّهم ضلوا بأنفسهم وأضلُّوا غيرهم. {ما كانوا يستطيعون السمع}؛ أي: من بغضهم للحقِّ ونفورهم عنه، ما كانوا يستطيعون أن يسمعوا آياتِ الله سماعاً ينتفعون به؛ {فما لهم عن التَّذْكِرَةِ معرضينَ. كأنَّهم حُمُرٌ مُسْتَنفِرَةٌ. فرَّتْ من قَسْوَرة}، {وما كانوا يبصِرون}؛ أي: ينظرون نظر عبرة وتفكُّر فيما ينفعهم، وإنما هم كالصمِّ البكم الذين لا يعقلون.