تو کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو اور اس کی طرف سے ایک گواہ اس کی تائید کر رہا ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب بھی جو امام اور رحمت تھی، یہ لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور گروہوں میں سے جو اس کا انکار کرے تو آگ ہی اس کے وعدے کی جگہ ہے۔ سو تو اس کے بارے میں کسی شک میں نہ رہ، یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
En
بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
کیا وه شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواه ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواه ہو) جو پیشوا اور رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے؟) یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم ہے، پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ ره، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر برحق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان ﻻنے والے نہیں ہوتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے قائم مقام، آپ کے دین کو قائم کرنے والے آپ کے ورثاء کا حال اور اہل ایقان کے دلائل کا ذکر کرتا ہے اور یہ ایسے اوصاف ہیں جن سے ان کے سوا کوئی اور متصف نہیں ہے اور نہ ان جیسا کوئی اور ہے۔ فرمایا: ﴿اَفَ٘مَنْكَانَعَلٰىبَیِّنَةٍمِّنْرَّبِّهٖ﴾”بھلا وہ شخص جو ہے واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے“ یعنی اس وحی کے ذریعے سے جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہم مسائل اور ان کے ظاہری دلائل نازل کیے ہیں پس ان سے یہ ثبوت اور دلیل مزید متیقن ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَیَتْلُوْهُ ﴾”اور اس کے پیچھے ہے“ یعنی اس دلیل اور برہان کے پیچھے ایک اور دلیل ہے۔ ﴿شَاهِدٌمِّؔنْهُ ﴾”ایک گواہ اس کی طرف سے“ اور وہ ہے فطرت مستقیم، عقل سلیم۔ فطرت سلیم اس شریعت کی حقانیت کی گواہی دیتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے نازل اور مشروع فرمایا اور بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے اس کے حسن کو معلوم کر لیتا ہے پس اس کے ایمان میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَ ﴾”اور“ وہاں ایک تیسرا شاہد بھی ہے ﴿ مِنْقَبْلِهٖ٘ ﴾”اس سے پہلے“ اور وہ ہے ﴿ كِتٰبُمُوْسٰۤى ﴾”موسیٰ علیہ السلام کی کتاب۔“ یعنی تورات ﴿ اِمَامًا﴾”پیشوا“ جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے امام ﴿ وَّرَحْمَةً﴾”اور رحمت بنایا ہے۔“ یہ تورات قرآن کی صداقت پر گواہی دیتی ہے اور اس حق کی موافقت کرتی ہے جو اس کے اندر نازل کیا گیا… یعنی جس کا یہ وصف ہو کہ تمام شواہد ایمان اس کی تائید کرتے ہوں اور اس کے پاس تمام دلائل یقین قائم ہوں کیا وہ اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو تاریکیوں اور جہالتوں میں ڈوبا ہوا ہے اور ان میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ دونوں اللہ کے ہاں برابر ہیں نہ اللہ کے بندوں کے ہاں۔
﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾”یہی“ یعنی وہ لوگ جن کو دلائل قائم کرنے کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ﴿ یُؤْمِنُوْنَبِهٖ﴾”اس پر ایمان لاتے ہیں۔“ یعنی قرآن پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے ایمان کے نتیجے میں انھیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا ہوتی ہے۔ ﴿ وَمَنْیَّكْفُرْبِهٖمِنَالْاَحْزَابِ ﴾”اور جو منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے“ یعنی روئے زمین کے تمام گروہ، جو حق کو ٹھکرانے پر متفق ہیں۔ ﴿ فَالنَّارُمَوْعِدُهٗ﴾”پس دوزخ اس کا ٹھکانا ہے“ وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ ﴿ فَلَاتَكُفِیْمِرْیَةٍمِّؔنْهُ﴾”تو آپ اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔“ یعنی آپ اس کی طرف سے ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا نہ ہوں۔ ﴿ اِنَّهُالْحَقُّمِنْرَّبِّكَوَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَایُؤْمِنُوْنَ ﴾”بے شک وہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے“ یعنی یا تو جہالت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے یا ظلم، عناد اور بغاوت کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ ورنہ جس کا مقصد اچھا اور فہم درست ہے وہ اس پر ضرور ایمان لائے گا کیونکہ اسے اس میں وہ صداقت نظر آتی ہے جو اسے ہر لحاظ سے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى حال رسوله محمد - صلى الله عليه وسلم - ومن قام مقامه من ورثته القائمين بدينه. وحججه الموقنين بذلك، وأنهم لا يوصف بهم غيرهم، ولا يكون أحدٌ مثلهم، فقال: {أفمن كان على بيِّنةٍ من ربِّه}: بالوحي الذي أنزل الله فيه المسائل المهمَّة ودلائلها الظاهرة، فتيقَّن تلك البيِّنة، {ويتلوه}؛ أي: يتلو هذه البينة والبرهان برهانٌ آخرُ، {شاهدٌ منه}: وهو شاهدُ الفطرة المستقيمة والعقل الصحيح، حين شهد حقيقةَ ما أوحاه الله وشَرَعَهُ وعَلِمَ بعقله حُسْنَهُ فازداد بذلك إيماناً إلى إيمانِهِ {و} ثَمَّ شاهدٌ ثالثٌ؛ وهو {كتابُ موسى}: التوراة التي جعلها الله {إماماً} للناس {ورحمةً} لهم، يشهد لهذا القرآن بالصدق ويوافقه فيما جاء به من الحقِّ؛ أي: أفمنْ كان بهذا الوصف، قد تواردتْ عليه شواهدُ الإيمان وقامتْ لديه أدلُة اليقين؛ كمن هو في الظُّلمات والجهالات ليس بخارج منها؟ لا يستوون عند الله ولا عند عباد الله. {أولئك}؛ أي: الذين وفِّقوا لقيام الأدلَّة عندهم، يؤمنون بالقرآن حقيقة، فيثمر لهم إيمانهم كلَّ خيرٍ في الدنيا والآخرة.
{ومن يكفُرْ به}؛ أي: القرآن، {من الأحزاب}؛ أي: سائر طوائف أهل الأرض المتحزِّبة على ردِّ الحق، {فالنار موعده}: لا بدَّ من وروده إليها، {فلا تكُ في مِريةٍ [منه]}؛ أي: في أدنى شكٍّ. {إنَّه الحقُّ من ربِّك ولكنَّ أكثر الناس لا يؤمنون}: إما جهلاً منهم وضلالاً، وإما ظلماً وعناداً وبغياً، وإلاَّ؛ فمن كان قصدُه حسناً وفَهْمُه مستقيماً؛ فلا بدَّ أن يؤمنَ به؛ لأنَّه يرى ما يدعوه إلى الإيمان من كلِّ وجه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔