تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 18

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر کوئی جھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا۔ سن لو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ En
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے
En
اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور سارے گواه کہیں گے کہ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ﻇالموں پر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبً٘ا اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَیَقُوْلُ الْاَشْهَادُ کہیں گے گواہی دینے والے یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه لا أحد {أظلمُ ممَّن افترى على الله كذباً}: ويدخل في هذا كلُّ من كذب على الله بنسبة الشريك له، أو وَصَفَه بما لا يَليق بجلاله، أو الإخبار عنه بما لم يقلْ، أو ادعاء النبوَّة، أو غير ذلك من الكذب على الله؛ فهؤلاء أعظم الناس ظلماٌ. {أولئك يُعْرَضونَ على ربِّهم}: ليجازِيَهم بظلمهم؛ فعندما يحكُم عليهم بالعقاب الشديد؛ {يقولُ الأشهادُ}؛ أي: الذين شهدوا عليهم بافترائهم وكذبهم: {هؤلاء الذين كَذَبوا على ربِّهم ألا لعنة الله على الظالمين}؛ أي: لعنة لا تنقطع؛ لأنَّ ظلمهم صار وصفاً لهم ملازماً، لا يقبل التخفيف.