تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 16

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے اس میں کیا اور بے کار ہے جو کچھ وہ کرتے رہے تھے۔ En
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع
En
ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ یہی ہیں جن کے واسطے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آگ کے وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے، ان کے عذاب میں کوئی وقفہ نہیں کیا جائے گا اور ثواب جزیل سے انھیں محروم کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا اور برباد ہوگیا جو کچھ انھوں نے کیا دنیا میں یعنی وہ سب اعمال باطل اور مضمحل ہو جائیں گے جو وہ حق اور اہل حق کے خلاف سازشوں کے لیے کرتے رہے ہیں اور نیکی کے اعمال بھی باطل ہو جائیں گے جن کی کوئی اساس ہی نہیں اور ان کی قبولیت کی شرط بھی مفقود ہے اور وہ ہے ایمان۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلاَّ النارُ}: خالدين فيها أبداً، لا يفتر عنهم العذاب، وقد حرموا جزيل الثواب. {وحَبِطَ ما صنعوا فيها}؛ أي: في الدنيا؛ أي: بطل، واضمحلَّ ما عملوه مما يكيدون به الحقَّ وأهله، وما عملوه من أعمال الخير التي لا أساس لها، ولا وجود لشرطها وهو الإيمان.