تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” بَيِّنَةٍ “} سے مراد عقل سلیم اور وہ فطرت سلیمہ ہے جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ عہد {”اَلَسْتُ“} ہے جس کا ہر شخص اپنے آپ پر شاہد بنا یا گیا ہے اور وہ ہے توحید الٰہی اور اپنے رب کی پہچان، فرمایا: «{ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ }» [الأعراف: ۱۷۲] ”کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ] [بخاری، الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین: ۱۳۸۵] ”ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔“ یعنی کیا وہ لوگ جو فطرت سلیمہ پر قائم ہیں، عقل سلیم سے کام لیتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی آ چکا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن اور اس سے پہلے تورات بھی اس کی شہادت دے رہی ہے، جو رہنما بھی تھی اور رحمت بھی، تو کیا یہ لوگ ان کی طرح ہیں جن کے پاس نہ رب کی طرف سے کوئی {” بَيِّنَةٍ “} ہے، نہ کوئی اس کی طرف سے شاہد اور نہ گزشتہ کسی آسمانی کتاب کی شہادت۔ ہر گز نہیں، ایک مومن دوسرا کافر، دونوں ایک جیسے کبھی نہیں ہو سکتے۔
➋ { اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ:} یعنی یہ {” بَيِّنَةٍ “} پر قائم لوگ اس رسول پر ایمان لاتے ہیں۔
➌ { وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ:} اور جو اس کے ساتھ کفر کرے، خواہ وہ کسی گروہ عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ وغیرہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کا ٹھکانا آگ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ! لاَ يَسْمَعُ بِيْ أَحَدٌ مِّنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ يَهُوْدِيٌّ وَلاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوْتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِيْ اُرْسِلْتُ بِهٖ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ] [مسلم، الإیمان، باب وجوب الإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم …: ۱۵۳، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میرے بارے میں اس امت (دعوت) میں سے کوئی یہودی یا نصرانی سن لے، پھر وہ فوت ہو اور اس پر ایمان نہ لایا ہو جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، تو وہ اصحاب النار سے ہو گا۔“ مشرکین اور نام کے مسلمان، جو دل سے آپ کی رسالت کو نہیں مانتے، وہ بھی انھی میں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۲) اور نساء (۱۵۰ تا ۱۵۲)۔
➍ { فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ:} بظاہر خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، مگر مراد ہر عاقل ہے۔
➎ { وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ:} اکثر یت کا یہ حال قرآن میں متعدد بار بیان ہوا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۳)، انعام (۱۱۶) اور سبا (۲۰) دین جمہوریت اور دین اسلام کو ایک قرار دینے والے غور فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[21] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ خطاب صرف بطور تاکید مزید ہے اصل میں اس کے مخاطب عام لوگ ہیں جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے بیان کی جا چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے کہ جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں پھر لوگ ان کے کان کاٹ ڈالتے ہیں } }۔ [صحیح بخاری:1381]
مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے { میں نے اپنے تمام بندوں کو موحد پیدا کیا ہے لیکن پھر شیطان آ کر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ میرے ساتھ انہیں شریک کریں جن کی کوئی دلیل میں نے نہیں اتاری }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2865]
مسند اور سنن میں ہے کہ { ہر بچہ اسی ملت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان کھلے }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:402/1:صحیح]
پس مومن فطرت رب پر ہی باقی رہا ہے۔ پس ایک تو فطرت اس کی صحیح سالم ہوتی ہے پھر اس کے پاس اللہ کا شاہد آتا ہے یعنی اللہ کی شریعت پیغمبر کے ذریعے پہنچتی ہے جو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ ختم ہوئی۔ پس شاہد سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اللہ کی رسالت اولاً جبرائیل علیہ السلام لائے اور آپ کے واسطے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم }۔ ایک قول میں کہا گیا ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں لیکن وہ قول ضعیف ہے۔ اس کا کوئی قائل ثابت ہی نہیں۔
پھر اس سے پہلے کی ایک اور تائید بھی موجود ہے، وہ کتاب موسیٰ علیہ السلام یعنی تورات جسے اللہ نے اس زمانے کی امت کے لیے پیشوائی کے قابل بنا کر بھیجی تھی اور جو اللہ کی طرف سے رحمت تھی اس پر جن کا پورا ایمان ہے وہ لامحالہ اس نبی علیہ السلام اور اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ اس کتاب نے اس کتاب پر ایمان لانے کی رہنمائی کی ہے۔ پس یہ لوگ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔
پھر پورے قرآن کو یا اس کے کسی حصے کو نہ ماننے والوں کی سزا کا بیان فرمایا کہ ’ دنیا والوں میں سے جو گروہ جو فرقہ اسے نہ مانے خواہ یہودی ہو، خواہ نصرانی کہیں کا ہو، کوئی ہو، کسی رنگت اور شکل و صورت کا ہو، قرآن پہنچا اور نہ مانا وہ جہنمی ہے ‘۔
جیسے رب العالمین نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اسی قرآن کریم میں فرمایا ہے، «لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» ۱؎ [6-الأنعام:19] کہ ’ میں اس سے تمہیں بھی آگاہ کر رہا ہوں اور انہیں بھی جنہیں یہ پہنچ جائے ‘۔
اور آیت میں ہے «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158] ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘۔
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں جو صحیح حدیث سنتا ہوں اس کی تصدیق کتاب اللہ میں ضرور پاتا ہوں۔ مندرجہ بالا حدیث سن کر میں اس تلاش میں لگا کہ اس کی تصدیق قرآن کی کسی آیت سے ہوتی ہے تو مجھے یہ آیت ملی پس تمام دین والے اس سے مراد ہیں۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18087:صحیح]
پھر جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ اس قرآن کے اللہ کی طرف سے سراسر حق ہونے میں تجھے کوئی شک و شبہ نہ کرنا چاہیئے ‘۔
جیسے ارشاد ہے کہ «الم تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ’ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘ ۱؎ [32-السجدة:1-2] اور جگہ ہے «الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ» ۱؎ [2-البقرة:2-1] ’ اس کتاب میں کوئی شک نہیں ‘۔
پھر ارشاد ہے کہ ’ اکثر لوگ ایمان سے کورے ہوتے ہیں ‘، جیسے فرمان ہے «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [12-یوسف:103] یعنی ’ گو تیری چاہت ہو لیکن یقین کر لے کہ اکثر لوگ مومن نہیں ہونگے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:116] ’ اگر تو دنیا والوں کی اکثریت کی پیروی کرے گا تو وہ تو تجھے راہ حق سے بھٹکا دیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ» [34-سبأ:20] یعنی ’ ان پر ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا اور سوائے مومنوں کی ایک مختصر سی جماعت کے باقی سب اسی کے پیچھے لگ گئے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى حال رسوله محمد - صلى الله عليه وسلم - ومن قام مقامه من ورثته القائمين بدينه. وحججه الموقنين بذلك، وأنهم لا يوصف بهم غيرهم، ولا يكون أحدٌ مثلهم، فقال: {أفمن كان على بيِّنةٍ من ربِّه}: بالوحي الذي أنزل الله فيه المسائل المهمَّة ودلائلها الظاهرة، فتيقَّن تلك البيِّنة، {ويتلوه}؛ أي: يتلو هذه البينة والبرهان برهانٌ آخرُ، {شاهدٌ منه}: وهو شاهدُ الفطرة المستقيمة والعقل الصحيح، حين شهد حقيقةَ ما أوحاه الله وشَرَعَهُ وعَلِمَ بعقله حُسْنَهُ فازداد بذلك إيماناً إلى إيمانِهِ {و} ثَمَّ شاهدٌ ثالثٌ؛ وهو {كتابُ موسى}: التوراة التي جعلها الله {إماماً} للناس {ورحمةً} لهم، يشهد لهذا القرآن بالصدق ويوافقه فيما جاء به من الحقِّ؛ أي: أفمنْ كان بهذا الوصف، قد تواردتْ عليه شواهدُ الإيمان وقامتْ لديه أدلُة اليقين؛ كمن هو في الظُّلمات والجهالات ليس بخارج منها؟ لا يستوون عند الله ولا عند عباد الله. {أولئك}؛ أي: الذين وفِّقوا لقيام الأدلَّة عندهم، يؤمنون بالقرآن حقيقة، فيثمر لهم إيمانهم كلَّ خيرٍ في الدنيا والآخرة.
{ومن يكفُرْ به}؛ أي: القرآن، {من الأحزاب}؛ أي: سائر طوائف أهل الأرض المتحزِّبة على ردِّ الحق، {فالنار موعده}: لا بدَّ من وروده إليها، {فلا تكُ في مِريةٍ [منه]}؛ أي: في أدنى شكٍّ. {إنَّه الحقُّ من ربِّك ولكنَّ أكثر الناس لا يؤمنون}: إما جهلاً منهم وضلالاً، وإما ظلماً وعناداً وبغياً، وإلاَّ؛ فمن كان قصدُه حسناً وفَهْمُه مستقيماً؛ فلا بدَّ أن يؤمنَ به؛ لأنَّه يرى ما يدعوه إلى الإيمان من كلِّ وجه.