تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 102

وَ کَذٰلِکَ اَخۡذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰی وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخۡذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۰۲﴾
اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔ En
اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے
En
تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عذاب کے ذریعے سے ظالموں کی کمر توڑ دیتا ہے اور ان کو تباہ و برباد کر دیتا ہے اور وہ ہستیاں ان کے کسی کام نہیں آتیں جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يقصِمُهم بالعذاب، ويبيدهم، ولا ينفعهم ما كانوا يَدْعون من دون الله من شيءٍ.