جس طرح ان ظالموں کی ہلاکت ہوئی ان جیسا جو بھی ہوگا اسی نتیجے کو وہ بھی دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ المناک اور بہت سختی والی ہوتی ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل دے کر پھر پکڑیں گے۔ وقت ناگہاں دبا لیتا ہے۔ پھر مہلت نہیں ملتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «وَكَذَٰلِكَأَخْذُرَبِّكَإِذَاأَخَذَالْقُرَىٰوَهِيَظَالِمَةٌإِنَّأَخْذَهُأَلِيمٌشَدِيدٌ» کی تلاوت کی }۔ ۱؎[صحیح بخاری:4686]