تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ هود (11) — آیت 101

وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡہُمۡ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیۡ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ وَ مَا زَادُوۡہُمۡ غَیۡرَ تَتۡبِیۡبٍ ﴿۱۰۱﴾
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آگیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔ En
اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے
En
ہم نے ان پر کوئی ﻇلم نہیں کیا، بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا، اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائده نہ پہنچایا جنہیں وه اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آپہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ یعنی مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ کر ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ ﴿ وَلٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بلکہ انھوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ یعنی انھوں نے شرک، کفر اور عناد کے ذریعے سے خود اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ پس نہ کام آئے ان کے وہ معبود جن کو وہ پکارتے تھے اللہ کو چھوڑ کر، کسی چیز میں، جب آپ کے رب کا حکم آیا اسی طرح ہر وہ شخص جو مصیبت اور سختیوں کے وقت غیر اللہ کی پناہ لیتا ہے، اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ﴿ وَمَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں کچھ نہ کرسکے۔ یعنی ان کی خواہشات کے برعکس خسارے اور تباہی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما ظَلَمْناهم}: بأخذهم بأنواع العقوبات، {ولكن ظَلَموا أنفسَهم}: بالشرك والكفر والعناد. {فما أغنتْ عنهم آلهتُهم التي يَدْعون من دون الله من شيءٍ لمَّا جاء أمرُ ربِّك}: وهكذا كلُّ من التجأ إلى غير الله؛ لم ينفعْه ذلك عند نزول الشدائد. {وما زادوهم غير تَتْبيبٍ}؛ أي: خسار ودمار بالضدِّ مما خطر ببالهم.