بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہو گی۔
En
ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے
یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّفِیْذٰلِكَ ﴾”بے شک ان میں “ یعنی عذاب کی مختلف انواع کے ذریعے سے ظالموں کو اللہ تعالیٰ کے پکڑنے میں۔ ﴿ لَاٰیَةًلِّ٘مَنْخَافَعَذَابَالْاٰخِرَةِ﴾”اس شخص کے لیے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے“ یعنی اس میں عبرت اور دلیل ہے کہ جو لوگ ظلم اور جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کے لیے دنیاوی سزا اور اخروی عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذکر سے منتقل ہو کر آخرت کے وصف کا ذکر فرمایا: ﴿ ذٰلِكَیَوْمٌمَّجْمُوْعٌ١ۙلَّهُالنَّاسُ ﴾”یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے۔“ یعنی اس روز تمام لوگوں کو جزا و سزا کے لیے جمع کیا جائے گا تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا عدل عظیم ظاہر ہو اور اس کے ذریعے سے وہ اس کو اچھی طرح پہچان لیں ﴿ وَذٰلِكَیَوْمٌمَّشْهُوْدٌ ﴾”اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا“ یعنی اس روز اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام مخلوقات اس کا مشاہدہ کرے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن في ذلك}: المذكور من أخذه للظالمين بأنواع العقوبات، {لآية لمَنْ خاف عذابَ الآخرة}؛ أي: لعبرةً ودليلاً على أنَّ أهل الظُّلم والإجرام لهم العقوبة الدنيويَّة والعقوبة الأخرويَّة. ثم انتقل من هذا إلى وصفِ الآخرة، فقال: {ذلك يومٌ مجموع له الناس}؛ أي: جُمِعوا لأجل ذلك اليوم للمجازاة وليظهر لهم من عظمة الله وسلطانه وعدله العظيم ما به يعرِفونه حقَّ المعرفة. {وذلك يومٌ مشهودٌ}؛ أي: يشهده الله وملائكتُه وجميعُ المخلوقين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔