اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کر دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا، یہاںتک کہ جب اسے ڈوبنے نے پا لیا تو اس نے کہا میں ایمان لے آیا کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں سے ہوں۔
En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ﻇلم اور زیادتی کے اراده سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان ﻻتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان ﻻئے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیں اور انھیں اس بات سے بھی آگاہ کر دیا کہ فرعون کے لشکر ضرور ان کا پیچھا کریں گے۔ فرعون نے تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دیے جو اعلان کرتے تھے کہ یہ لوگ یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ﴿ اِنَّهٰۤؤُلَآءِلَشِرْذِمَةٌقَلِیْلُوْنَۙ۰۰وَاِنَّهُمْلَنَالَغَآىِٕظُوْنَۙ۰۰وَاِنَّالَ٘جَمِیْعٌحٰؔذِرُوْنَ﴾ (الشعراء: 26؍54-56) ”ایک قلیل سی جماعت ہے۔ یہ ہمیں ناراض کر رہے ہیں اور ہم پوری طرح بسازوسامان تیار ہیں۔“ پس فرعون نے دور اور نزدیک سے تمام لشکر جمع کر لیے اور اس نے اپنے لشکر لے کر ظلم و زیادتی کے ساتھ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم پر ظلم اور زمین میں زیادتی کرتے ہوئے انھیں گھروں سے نکالا۔ جب ظلم و زیادتی حد سے بڑھ جائے اور گناہ جڑ پکڑ لیں تو عذاب کا انتظار کرو۔
﴿ وَجٰؔوَزْنَابِبَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَالْبَحْرَ ﴾”اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اور یہ اس طرح ہوا کہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، انھوں نے سمندر پر عصا مارا تو سمندر کا پانی پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل ان پر چلتے ہوئے پار نکل گئے۔ فرعون اور اس کے پیچھے پیچھے اس کے لشکر سمندر میں داخل ہوگئے۔ جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئے اور فرعون اور اس کی قوم مکمل طور پر سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا اور سمندر کے تلاطم نے فرعون اور اس کی فوجوں کو اپنی گرفت میں لے کر غرق کر دیا اور بنی اسرائیل یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھا ﴿اٰمَنْتُاَنَّهٗلَاۤاِلٰهَاِلَّاالَّذِیْۤاٰمَنَتْبِهٖبَنُوْۤااِسْرَآءِیْلَ ﴾”میں ایمان لایا اس بات پر کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے“ کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿ وَاَنَامِنَالْمُسْلِمِیْنَ ﴾”اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور ان تمام امور کو مانتا ہوں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأمر الله موسى أن يسري ببني إسرائيل ليلاً، وأخبره أنهم سَيَتَّبِعُونه ، وأرسل فرعونُ في المدائن حاشرين يقولون: إنَّ هؤلاء ـ أي: موسى وقومه ـ لشرذِمَةٌ قليلون. وإنَّهم لنا لغائظونَ. وإنا لجميعٌ حاذرونَ. فجمع جنودَه قاصيهم ودانيهم، فأتبعهم بجنوده بغياً وعدواً؛ أي: خروجهم باغين على موسى وقومه ومعتدين في الأرض، وإذا اشتدَّ البغي واستحكم الذنبُ؛ فانتظِر العقوبةَ. {وجاوزنا ببني إسرائيل البحر}: وذلك أنَّ الله أوحى إلى موسى لما وصل البحر أن يضرِبَه بعصاه، فضربه، فانفلق اثني عشر طريقاً، وسلكه بنو إسرائيل، وساق فرعون وجنودهم خلفهم داخلين، فلما استكمل موسى وقومُه خارجين من البحر وفرعونُ وجنودُه داخلين فيه؛ أمر الله البحر، فالتطم على فرعون وجنوده، فأغرقَهم وبنو إسرائيل ينظُرون، حتى إذا أدرك فرعونَ الغرقُ وجزم بهلاكه؛ {قال آمنتُ أنَّه لا إله إلاَّ الذي آمنتْ به بنو إسرائيلَ}: وهو الله الإله الحقُّ الذي لا إله إلا هو، {وأنا من المسلمينَ}؛ أي: المنقادين لدين الله، ولما جاء به موسى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔