تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّ عَدْوًا:} فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا انھیں ستانے، ان پر زیادتی کرنے اور انھیں دوبارہ غلام بنانے کے لیے کیا، یعنی ان کی نیت صلح یا اصلاح کی نہ تھی۔ {” بَغْيًا “} اور {” عَدْوًا “} حال بمعنی اسم فاعل یا مصدر برائے مفعول لہ ہیں۔ ہمارے استاذ مولانا عبدہ رحمہ اللہ نے قرطبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ {”بَغْيٌ“ } وہ زیادتی ہے جو قول سے ہو اور {”عَدْوٌ“} وہ جو فعل سے ہو اور طنطاوی نے لکھا ہے: {”بَغٰي فُلَانٌ عَلٰي فُلاَنٍ بَغْيًا“} جب کوئی کسی پر دست درازی اور ظلم کرے اور {”عَدَا عَلَيْهِ عَدْوًا“} جب اس سے اس کا حق چھین لے۔ موسیٰ علیہ السلام کو حکم تھا کہ سمندر سے پار ہو کر اسے اسی حالت میں رہنے دو۔ (دیکھیے دخان: ۲۴) چنانچہ جب بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی نکل گیا اور فرعون کا پورا لشکر ان کے پیچھے مع فرعون سمندر میں داخل ہو گیا تو سمندر کا پانی برابر ہو گیا۔
➌ {حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ …:} غرق یعنی ڈوبنے نے اسے پا لیا، گویا غرق اللہ کا سپاہی تھا جس نے اسے آپکڑا اور واقعی اللہ کے لشکروں اور سپاہیوں کا شمار نہیں۔ تو فرعون نے تین دفعہ مسلمان ہونے کا اقرار کیا: (1) {” اٰمَنْتُ “} (2) {” اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ “} (3) {” وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ “} یہ سارا معاملہ غیب کا ہے، ڈوبتے وقت اس نے کیا کہا؟ اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتوں کے سوا وہاں کون تھا؟ سو یہ ساری بات اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتائی، جو آپ کی نبوت کی زبردست دلیل ہے۔
➍ {آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ …:} کیا اب؟ یہ اللہ کی طرف سے ڈانٹ تھی اور بتانا تھا کہ عذاب نازل ہو جانے کے بعد توبہ کرنے اور ایمان لانے سے کوئی فائدہ نہیں، فرمایا: «{ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا }» [المؤمن: ۸۵] ”پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ اور دیکھیے سورۂ یونس (۵۱) اور نساء (۱۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ] [ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر…: ۳۵۳۷، عن ابن عمر رضی اللہ عنہ]”بے شک اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا غرغرہ (جان نکلنے کی حالت) نہ ہو۔“
➎ فرعون کی سرکشی پر اللہ کے فرشتوں کو بھی اس قدر غصہ تھا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا: [قَالَ لِيْ جِبْرِيْلُ لَوْ رَأَيْتَنِيْ وَأَنَا آخِذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأُدُسُّهٗ فِيْ فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ] [السلسلۃ الصحیحۃ: 26/5، ح: ۲۰۱۵۔ مسند طیالسی: ۲۶۱۸۔ ترمذی: ۳۱۰۸] ”مجھ سے جبریل علیہ السلام نے کہا، کاش! آپ مجھے دیکھتے کہ میں سمندر کا سیاہ کیچڑ اٹھا کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس خوف سے کہ کہیں اس کو رحمت نہ آ پہنچے۔“
➏ یہ واقعہ دس محرم (عاشوراء) کو پیش آیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے، آپ نے فرمایا: [مَا هٰذَا؟ قَالُوْا هٰذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هٰذَا يَوْمٌ نَجَّی اللّٰهُ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ، فَصَامَهٗ مُوْسٰی قَالَ فَأَنَا أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْكُمْ، فَصَامَهٗ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ] [بخاری، الصوم، باب صوم یوم عاشوراء: ۲۰۰۴] ”یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”یہ ایک صالح دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی تو موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پھر میں تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھنے والا ہوں۔“ چنانچہ آپ نے اس (دن) کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“ صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت میں ہے: [هٰذَا يَوْمٌ ظَهَرَ فِيْهِ مُوْسَی عَلٰی فِرْعَوْنَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوْسَی مِنْهُمْ فَصُوْمُوْا] [بخاری، التفسیر، باب: «وجاوزنا ببني إسرائیل البحر» : ۴۶۸۰] ”اس دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا:”تم ان (یہود) سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام پر حق رکھتے ہو، پس روزہ رکھو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے «فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ» ۱؎ [26-الشعراء:61] ’ لو اب پکڑ لیے گئے ‘ کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔
موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» ۱؎ [26-الشعراء:62] ’ میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں ‘۔ میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا، تم بے فکر رہو، وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔
اسی وقت وحی ربانی آئی کہ ’ اپنی لکڑی دریا پر مار دے ‘۔ آپ علیہ السلام نے یہی کیا۔ «فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ» ۱؎ [26-الشعراء:63] اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہوگیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ «فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ» ۱؎ [20-طه:77] تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔
اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ «فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا، ملک میں فساد مچاتا رہا، خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا، لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا، قیامت کے دن بے یارومددگار رہے گا ‘۔
فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالیٰ علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہونے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے }۔ [سنن ترمذي:3107، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ]۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم تو موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1130]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأمر الله موسى أن يسري ببني إسرائيل ليلاً، وأخبره أنهم سَيَتَّبِعُونه ، وأرسل فرعونُ في المدائن حاشرين يقولون: إنَّ هؤلاء ـ أي: موسى وقومه ـ لشرذِمَةٌ قليلون. وإنَّهم لنا لغائظونَ. وإنا لجميعٌ حاذرونَ. فجمع جنودَه قاصيهم ودانيهم، فأتبعهم بجنوده بغياً وعدواً؛ أي: خروجهم باغين على موسى وقومه ومعتدين في الأرض، وإذا اشتدَّ البغي واستحكم الذنبُ؛ فانتظِر العقوبةَ. {وجاوزنا ببني إسرائيل البحر}: وذلك أنَّ الله أوحى إلى موسى لما وصل البحر أن يضرِبَه بعصاه، فضربه، فانفلق اثني عشر طريقاً، وسلكه بنو إسرائيل، وساق فرعون وجنودهم خلفهم داخلين، فلما استكمل موسى وقومُه خارجين من البحر وفرعونُ وجنودُه داخلين فيه؛ أمر الله البحر، فالتطم على فرعون وجنوده، فأغرقَهم وبنو إسرائيل ينظُرون، حتى إذا أدرك فرعونَ الغرقُ وجزم بهلاكه؛ {قال آمنتُ أنَّه لا إله إلاَّ الذي آمنتْ به بنو إسرائيلَ}: وهو الله الإله الحقُّ الذي لا إله إلا هو، {وأنا من المسلمينَ}؛ أي: المنقادين لدين الله، ولما جاء به موسى.