تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 91

آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾
کیا اب؟ حالانکہ بے شک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔ En
(جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا
En
(جواب دیا گیا کہ) اب ایمان ﻻتا ہے؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے... یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس صورت حال میں ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا... فرمایا: ﴿ آٰلْـٰٔنَ اب یعنی اب تو ایمان لاتا ہے اور اللہ کے رسول کا اقرار کرتا ہے؟ ﴿ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ حالانکہ پہلے نافرمانی کرتا رہا۔ یعنی اس سے قبل کھلے عام کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا کرتا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا کرتا تھا۔ ﴿ وَؔكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ اور تو شرارتیوں میں سے تھا پس اب تجھے تیرا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ جب کفار اس اضطراری حالت کو پہنچ جاتے ہیں تو ان کا ایمان لانا انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا ایمان مشاہدے پر مبنی ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا ایمان جو قیامت کا مشاہدہ کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔ جو ایمان مفید ہے وہ ایمان بالغیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله تعالى مبيِّناً أنَّ هذا الإيمان في هذه الحالة غير نافع له: {آلآنَ}: تؤمن وتقرُّ برسول الله، {وقد عصيتَ قبلُ}؛ أي: بارزت بالمعاصي والكفر والتكذيب، {وكنت من المفسدينَ}: فلا ينفعُك الإيمان كما جرتْ عادةُ الله أن الكفار إذا وصلوا إلى هذه الحالة الاضطراريَّة أنَّه لا ينفعهم إيمانهم؛ لأنَّ إيمانهم صار إيماناً مشاهداً؛ كإيمان من ورد القيامة، والذي ينفعُ إنما هو الإيمان بالغيب.