تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 89

قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾
فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔ En
خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا
En
حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم ﺛابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راه نہ چلنا جن کو علم نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا اللہ نے فرمایا تمھاری دعا قبول ہوئی... آیت کریمہ میں تثنیہ کا صیغہ اس بات کی دلیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام دعا کرتے جاتے تھے اور ہارون علیہ السلام آمین کہتے جاتے تھے اور وہ شخص جو دعا کرنے والے کی دعا پر آمین کہتا ہے، وہ دعا کرنے والے کی دعا میں شریک ہوتا ہے۔ ﴿فَاسْتَقِیْمَا پس دونوں ثابت قدم رہنا۔ یعنی دونوں اپنے دین پر ثابت قدم اور اپنی دعوت پر جمے رہو۔ ﴿ وَلَا تَ٘تَّ٘بِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اور بے علم لوگوں کے راستے پر نہ چلنا۔ یعنی جہلاء کے راستے کی پیروی نہ کرو جنھوں نے صراط مستقیم سے انحراف کر کے جہنم کا راستہ اختیار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} الله تعالى: {قد أُجيبتْ دعوتُكما}: هذا دليلٌ على أن موسى يدعو وهارون يؤمِّن على دعائه، وإن الذي يؤمِّن يكون شريكاً للداعي في ذلك الدعاء. {فاستقيما}: على دينكما، واستمرَّا على دعوتكما، {ولا تتَّبِعانِّ سبيل الذين لا يعلمون}؛ أي: لا تتبعانِّ سبيل الجهَّال الضلاَّل، المنحرفين عن الصراط المستقيم، المتَّبعين لطرق الجحيم.