تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاُمِرْتُاَنْاَكُوْنَمِنَالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔“﴿ وَاَنْاَقِمْوَجْهَكَلِلدِّیْنِحَنِیْفًا﴾”اور یہ کہ سیدھا کر اپنا منہ دین پر یک طرفہ ہو کر“ یعنی اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے اور یکسو ہو کر تمام شرائع کو قائم کیجیے، یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اللہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول رکھیے۔ ﴿ وَلَاتَكُوْنَنَّمِنَالْ٘مُشْرِكِیْنَ ﴾”اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔“ ان کا حال اختیار کیجیے، نہ ان کا ساتھ دیجیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأن أقِمْ وجهكَ للدين حنيفاً}؛ أي: أخلص أعمالك الظاهرة والباطنة لله، وأقم جميع شرائع الدين، {حنيفاً}؛ أي: مقبلاً على الله معرضاً عما سواه. {ولا تكوننَّ من المشركين}: لا في حالهم ولا تكنْ معهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔