تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يونس (10) — آیت 106

وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکار جو نہ تجھے نفع دے اور نہ تجھے نقصان پہنچائے، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو یقینا تو اس وقت ظالموں سے ہوگا۔ En
اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے
En
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَلَا یَضُرُّكَ اور اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو مت پکاریں جو آپ کو فائدہ پہنچا سکیں نہ نقصان کیونکہ یہ وصف ہر مخلوق کا ہے، مخلوق کوئی فائدہ دے سکتی ہے نہ نقصان، نفع اور نقصان پہنچانے والی ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ فَاِنْ فَعَلْتَ اگر ایسا کرو گے۔ یعنی اگر آپ نے اللہ کے بغیر کسی ہستی کو پکارا جو کسی کو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ﴿ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ تو ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔ یعنی آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جنھوں نے ہلاکت کے ذریعے سے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۰۰ (لقمان: 31؍13) بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے اگر اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارے تو اس کا شمار مشرکوں میں ہو جاتا ہے تو دیگر لوگوں کا کیا حال ہوگا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تدعُ من دون الله ما لا ينفعُك ولا يضرُّك}: وهذا وصفٌ لكلِّ مخلوق أنه لا ينفع ولا يضرُّ، وإنما النافع الضارُّ هو الله تعالى. {فإن فعلت}؛ أي: دعوت من دون الله ما لا ينفعك ولا يضرك، {فإنَّك إذاً} لمن {الظالمين}؛ أي: الضارين أنفسهم بإهلاكها، وهذا الظلم هو الشرك؛ كما قال تعالى: {إنَّ الشِّرك لظلمٌ عظيمٌ}: فإذا كان خيرُ الخلق لو دعا مع الله غيره؛ لكان من الظالمين المشركين؛ فكيف بغيره؟!