ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 105

وَ اَنۡ اَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ حَنِیۡفًا ۚ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾
اور یہ کہ تو اپنا چہرہ یکسو ہوکر اسی دین کی طرف سیدھا رکھ اور مشرکوں سے ہرگز نہ ہو۔ En
اور یہ کہ (اے محمد سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا
En
اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر (اس) دین کی طرف کرلینا، اور کبھی مشرکوں میں سے نہ ہونا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 105) {وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا …: حَنِيْفًا } یکسو، ایک طرف ہو جانے والا یعنی تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ ہی کا ہو جانے والا۔ حنیف بن کر مشرکین میں سے ہر گز نہ ہونے کی تاکید کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے مشرک دینِ ابراہیم کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھنے کی وجہ سے اپنے آپ کو حنیف کہتے، پھر شرک بھی کیے جاتے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حنیف بن مگر مشرکین میں سے ہر گز نہ ہو اور ایک معنی یہ ہے کہ کسی طرح بھی مشرکین کے ساتھ شامل نہ ہو، نہ شرک جلی میں اور نہ شرک خفی میں۔ ریا کو شرک خفی کہا جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 حَنِیْف کے معنی ہیں۔ یک سو، یعنی ہر دین کو چھوڑ کر صرف دین اسلام کو اپنانا اور ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف ایک اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ نیز یہ کہ آپ یکسو ہو کر اسی دین (اسلام) کی طرف اپنا رخ قائم رکھئے اور مشرکوں [113] سے نہ ہونا
[113] ہدایت کے حصول کے لئے تین ہدایات:۔
اس آیت اور اس سے اگلی دو آیات میں بھی خطاب بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے جبکہ یہ ارشادات عام لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے ہیں اس لیے کہ نبی کی دعوت کا تو آغاز ہی شرک کی تردید سے ہوتا ہے اور اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی شرک سے مبرا ہوتی ہے اور قرآن کریم میں یہ انداز تاکید مزید کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ارشاد یہ ہو رہا ہے کہ دین اسلام کا جو راستہ اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور دکھلایا ہے بالکل ناک کی سیدھ اسی پر چلتے جائیے دائیں بائیں یا آگے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ کی سیدھی راہ کے علاوہ ادھر ادھر جتنے راستے ہیں سب شیطانی راہیں ہیں۔ دوسری ہدایت یہ ہے کہ اس راہ پر ہر قسم کے قبائلی تعصبات جاہلانہ اور مشرکانہ رسم و رواج، مذہبی تعصبات اور خارجی یا سابقہ نظریات کو بالکل چھوڑ چھاڑ کر اور یکسو ہو کر چلنا ہو گا اور تیسری ہدایت یہ ہے کہ بالخصوص مشرکانہ عقائد اور رسم و رواج، ان کے عادات و خصائل اور کردار سب سے پاک صاف رہ کر اللہ کی راہ کو اختیار کرنا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دین حنیف کی وضاحت ٭٭
یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہو جاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔
اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت و قدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بے بس ہیں، بے نفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ { اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھرپور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:328/8:ضعیف و منقطع]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے ‘۔