کہہ دے اے لوگو! اگر تم میرے دین کے بارے میں کسی شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور لیکن میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمھیں قبض کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان والوں سے ہو جاؤں۔
En
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم مرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔ اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان ﻻنے والوں میں سے ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول سید المرسلین، امام المتقین، خیر الموقنین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ قُ٘لْیٰۤاَیُّهَاالنَّاسُاِنْكُنْتُمْفِیْشَكٍّمِّنْدِیْنِیْ ﴾”کہہ دیجیے اے لوگو! اگر تم میرے لائے ہوئے دین کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔“ تو میں اس بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں علم الیقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور تم اللہ کے سوا جن ہستیوں کو پکارتے ہو، وہ سب باطل ہیں۔ میں اپنے اس موقف پر واضح دلائل اور روشن براہین رکھتا ہوں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ فَلَاۤاَعْبُدُالَّذِیْنَتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾”پس جن لوگوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔“ یعنی میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمھارے خود ساختہ ہمسروں اور بتوں کی عبادت نہیں کرتا کیونکہ یہ پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق عطا کر سکتے ہیں اور نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے، یہ تو خود مخلوق اور اللہ کی قدرت کے سامنے مسخر ہیں، ان میں کوئی ایسی صفات نہیں پائی جاتیں جو ان کی عبادت کا تقاضا کرتی ہوں ﴿ وَلٰكِنْاَعْبُدُاللّٰهَالَّذِیْیَتَوَفّٰىكُمْ﴾”لیکن میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو کھینچ لیتا ہے تمھاری روحیں “ یعنی وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، وہی تمھیں موت دے گا، پھر وہ تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا... پس وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے لیے نماز پڑھی جائے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - سيد المرسلين وإمام المتقين وخير الموقنين: {قل يا أيُّها الناس إن كنتُم في شكٍّ من ديني}؛ أي: في ريب واشتباه؛ فإني لست في شكٍّ منه، بل لديَّ العلم اليقيني أنه الحقُّ وأن ما تدعون من دون الله باطلٌ، ولي على ذلك الأدلَّةُ الواضحةُ والبراهينُ الساطعةُ، ولهذا قال: {فلا أعبدُ الذين تعبدونَ من دون الله}: من الأنداد والأصنام وغيرهما؛ لأنها لا تَخْلُقُ ولا ترزقُ ولا تدبِّر شيئاً من الأمور، وإنما هي مخلوقةٌ مسخَّرة ليس فيها ما يقتضي عبادتها. {ولكنْ أعبدُ الله الذي يتوفَّاكم}؛ أي: هو الله الذي خلقكم، وهو الذي يميتكم ثم يبعثكم ليجازيكم بأعمالكم؛ فهو الذي يستحقُّ أن يُعبد، ويصلَّى له، [ويخضع]، ويسجد، {وأمِرْتُ أن أكون من المؤمنين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔