ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 68

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾
اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا حق کو جھٹلا دے جب وہ اس کے پاس آئے۔ کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی رہنے کی جگہ نہیں ہے؟ En
اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اُس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟
En
اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے وه اسے جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

68۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو خود جھوٹ گھڑ کر اللہ کے ذمہ لگا دے یا اس کے پاس حق آئے [100] تو اسے جھٹلا دے۔ کیا ایسے کافروں کے لئے دوزخ کا ٹھکانا کافی نہیں؟
[100] اللہ کے رسول نے اپنی رسالت کا دعویٰ کیا تو ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا۔ اب اس کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ رسول نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا ہو اور اللہ پر جھوٹ باندھا ہو۔ تو وہ سب سے زیادہ ظالم ہوا۔ اور اگر وہ سچا ہو اور فی الواقع اللہ نے اسے رسول بنایا ہو لیکن یہ لوگ اسے جھٹلا دیں۔ تو یہ سب سے زیادہ ظالم ہوئے۔ اب جو بھی ظالم ہو گا اسے بہرحال دوزخ کا عذاب بھگتنا ہو گا۔ آگے یہ لوگ اپنا انجام خوب سوچ سمجھ لیں۔