ترجمہ و تفسیر — سورۃ التوبة (9) — آیت 39

اِلَّا تَنۡفِرُوۡا یُعَذِّبۡکُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۬ۙ وَّ یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ وَ لَا تَضُرُّوۡہُ شَیۡئًا ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل ﻻئے گا، تم اللہ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت39) {اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا …:} عذاب الیم یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی، محکومیت اور غلامی اور آخرت میں آگ کا عذاب جس کی کوئی حد ہی نہیں۔ «وَ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ» یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم جہاد کے لیے نہ نکلیں گے تو اللہ تعالیٰ کا کام پورا ہونے سے رہ جائے گا، ہر گز نہیں، اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور انھیں اسلام غالب کرنے کے لیے جہاد کی سعادت سے نوازے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے، کیونکہ وہ تمھاری یا کسی اور کی مدد کے بغیر خود اکیلا ہی ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن 9 / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ 20 روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا چاہتے ہو۔ اس کا مظاہرہ بعض لوگوں کی طرف سے ہوا لیکن اس کو منسوب سب کی طرف کردیا گیا (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اگر تم نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں [42] دردناک سزا دے گا اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگ لے آئے گا اور تم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
[42] اسلامی حکومت کے اعلان پر جہاد فرض عین ہے:۔
یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے اسلام کی سر بلندی کے لیے تمہیں منتخب کر لیا ہے ورنہ وہ تمہارے بجائے دوسرے لوگوں سے بھی یہ خدمت لے سکتا ہے اور تمہارے انکار کی صورت میں تمہیں ان سے پٹوا بھی سکتا ہے اور خود بھی سزا دے سکتا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اگر اسلامی حکومت جہاد کا اعلان عام کر دے تو جہاد فرض عین ہو جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

غزوہ تبوک اور جہاد سے گریزاں لوگوں کو انتباہ ٭٭
ایک طرف تو گرمی سخت پڑ رہی تھی دوسری طرف پھل پک گئے تھے اور درختوں کے سائے بڑھ گئے تھے، ایسے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دور دراز کے سفر کے لیے تیار ہو گئے غزوہ تبوک میں اپنے ساتھ چلنے کو سب سے فرما دیا۔ کچھ لوگ جو رہ گئے تھے انہیں تنبیہ کی گئی ان آیتوں کا شروع اس آیت سے ہے کہ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم کیوں زمین میں دھنسنے لگتے ہو؟ کیا دنیا کی ان فانی چیزوں پر ریجھ کر آخرت کی باقی نعمتوں کو بھلا بیٹھے ہو؟
سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:2858]‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔‏‏‏‏ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‏‏‏‏ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف]‏‏‏‏
مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔‏‏‏‏
پھر ترک جہاد پر اللہ تعالیٰ ڈانٹتا ہے کہ سخت درد ناک عذاب ہوں گے۔ ایک قبیلے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لیے بلوایا وہ نہ اٹھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش روک لی۔
پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41]‏‏‏‏ اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120]‏‏‏‏ یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12]‏‏‏‏ سے منسوخ ہیں۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔‏‏‏‏ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور نہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔
نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چرانے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّیَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَؔكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَیْـًٔـا اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لیے برابر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کر سکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم توعدهم على عدم النفير، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبكم عذاباً أليماً}: في الدُّنيا والآخرة؛ فإن عدم النفير في حال الاستنفار من كبائر الذُّنوب الموجبة لأشدِّ العقاب؛ لما فيها من المضارِّ الشديدة؛ فإنَّ المتخلِّف قد عصى الله تعالى، وارتكب لنهيه، ولم يساعد على نصر دين الله، ولا ذبَّ عن كتاب الله وشرعه، ولا أعان إخوانه المسلمين على عدوِّهم الذي يريد أن يستأصلهم ويمحقَ دينهم، وربما اقتدى به غيره من ضعفاء الإيمان، بل ربما فتَّ في أعضاد من قاموا بجهاد أعداء الله؛ فحقيقٌ بمن هذا حاله أن يتوعَّده الله بالوعيد الشديد، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبْكم عذاباً أليماً ويستبدلْ قوماً غيركم}: ثم لا يكونوا أمثالكم، {ولا تضرُّوه شيئاً}؛ فإنه تعالى متكفِّل بنصر دينه وإعلاء كلمته؛ فسواءٌ امتثلتم لأمر الله أو ألقيتموه وراءكم ظِهْرِيًّا. {والله على كل شيء قديرٌ}: لا يعجِزُه شيء أراده ولا يغالبه أحدٌ.