تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2858]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف]
مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12] سے منسوخ ہیں۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم توعدهم على عدم النفير، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبكم عذاباً أليماً}: في الدُّنيا والآخرة؛ فإن عدم النفير في حال الاستنفار من كبائر الذُّنوب الموجبة لأشدِّ العقاب؛ لما فيها من المضارِّ الشديدة؛ فإنَّ المتخلِّف قد عصى الله تعالى، وارتكب لنهيه، ولم يساعد على نصر دين الله، ولا ذبَّ عن كتاب الله وشرعه، ولا أعان إخوانه المسلمين على عدوِّهم الذي يريد أن يستأصلهم ويمحقَ دينهم، وربما اقتدى به غيره من ضعفاء الإيمان، بل ربما فتَّ في أعضاد من قاموا بجهاد أعداء الله؛ فحقيقٌ بمن هذا حاله أن يتوعَّده الله بالوعيد الشديد، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبْكم عذاباً أليماً ويستبدلْ قوماً غيركم}: ثم لا يكونوا أمثالكم، {ولا تضرُّوه شيئاً}؛ فإنه تعالى متكفِّل بنصر دينه وإعلاء كلمته؛ فسواءٌ امتثلتم لأمر الله أو ألقيتموه وراءكم ظِهْرِيًّا. {والله على كل شيء قديرٌ}: لا يعجِزُه شيء أراده ولا يغالبه أحدٌ.