تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ علمائے تفسیر متفق ہیں کہ یہاں سے ان لوگوں پر عتاب کا آغاز ہوتا ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہے تھے، جب پھل تیار تھے، گرمی شدید تھی اور سائے نہایت خوش گوار محسوس ہو رہے تھے، اس لیے بعض نام نہاد مسلمان جہاد پر روانہ ہونے سے جی چرانے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے بات شروع ہی ایمان کو حرکت دینے سے کی ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھیں کیا ہو گیا؟ اپنے ایمان کے تقاضے ہی پر غور کرو، کیا اس کا تقاضا یہی ہے جو جہاد کے لیے نکلنے کے حکم پر تم اختیار کر رہے ہو۔ {” اثَّاقَلْتُمْ “} اصل میں {” تَثَاقَلْتُمْ“} تھا جو باب تفاعل سے ہے۔ {” ثَقُلَ“} سے بڑھا کر تفاعل میں لے جا کر بھاری ہونے کے مفہوم کو انتہا تک پہنچانے کے لیے لفظ بھی آخری حد تک بھاری بنا دیا {”اثَّاقَلْتُمْ “} یعنی نہایت بھاری اور بوجھل ہو جاتے ہو کہ اٹھانے سے نہیں اٹھتے، اس کا باعث اس کے سوا کیا ہے کہ تم آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کے معمولی، حقیر اور ناپائدار سازو سامان پر جو کسی وقت بھی چھن جائے گا، اس آخرت کے مقابلے میں راضی ہو گئے ہو جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور جس میں وہ نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ان کا خیال ہی کسی انسان کے دل میں آیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو دنیا کی زندگی کا یہ سازو سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے، کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ اس کی مثال تو سمندر کے مقابلے میں انگلی ڈبونے سے اس پر لگنے والے پانی کی سی ہے، جیسا کہ مستورد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا ہے۔ [مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب فناء الدنیا …: ۲۸۵۸]
➌ تبوک ایک مشہور مقام کا نام ہے جو مدینہ سے شمال کی طرف تقریباً چھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے بعد ۹ ھ میں پیش آیا۔ اس غزوے کا پس منظر یہ تھا کہ ملک شام پر قبیلہ غسان حکمران تھا، جو شاہِ روم کے تابع تھا، اسے یہ فکر لاحق ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۂ عرب سے فارغ ہو چکے ہیں، اب ہماری باری ہے توکیوں نہ شاہِ روم کو بلا کر عرب پر پہلے ہی چڑھائی کر دی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سرزمین عرب سے نکل کر دشمن کے علاقے، یعنی شام میں جا کر انھیں عرب پر حملے سے روکا جائے، چونکہ سفر بہت مشکل اور لمبا تھا، فصل کی کٹائی کا موسم تھا اور سواریاں اور سامان حرب بھی پوری طرح میسر نہ تھا، اس لیے اسے جیش العسرۃ ”تنگی کے زمانے کا لشکر“ کہا جاتا ہے۔ اس لیے اگرچہ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا کہ آپ جب کہیں حملہ کرنا چاہتے تو توریہ کرتے، یعنی اصل جگہ کی نشان دہی کے بجائے ادھر ادھر کے متعلق لوگوں سے حالات معلوم کرتے، تاکہ لوگوں کو حملے کے اصل مقام کا پتا نہ چلے، لیکن اب آپ نے لوگوں کو صاف الفاظ میں اپنا ہدف واضح کر دیا اور سب کو نکلنے کا حکم دیا۔ تقریباً تیس ہزار مجاہد تیار ہو گئے۔ آپ نے اس سے پہلے شاہِ روم کو خط بھی لکھا تھا جس میں اسے دین اسلام کی دعوت دی۔ وہ اسلام لانے پر آمادہ بھی ہو گیا، لیکن قوم نے اس کا ساتھ نہ دیا، اس لیے وہ اسلام سے محروم رہا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو لے کر تبوک پہنچ گئے اور دشمن کا بیس دن تک انتظار کرتے رہے، مگر کسی میں مقابلے پر آنے کی جرأت نہ ہوئی، نہ ہی کوئی جنگ ہوئی، اس علاقے کے اور اردگرد کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اطاعت کا عہد کیا، اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے۔ آپ دشمن کو خوف زدہ کرکے اسلام کی دھاک بٹھا کر کامیاب فاتح ہو کر واپس تشریف لائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سارا ملک شام فتح ہو گیا اور اسرائیل کے مقبوضہ حصے کے سوا اب تک اسلام کے زیر نگین ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[41] جہاد میں عدم شمولیت سے تم زیادہ سے زیادہ اپنی جانیں یا کچھ مال بچا لو گے۔ فصلیں کاٹ لو گے یا سفر کی صعوبتوں سے بچ جاؤ گے اور یہ سب مفادات جنت کی دائمی نعمتوں کے مقابلہ میں کچھ قدر و قیمت نہیں رکھتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سنو دنیا کی تو آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمے کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”اس انگلی کو کوئی سمندر میں ڈبو کر نکالے اس پر جتنا پانی سمندر کے مقابلے میں ہے اتنا ہی مقابلہ دنیا کا آخرت میں ہے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:2858]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ ”میں نے سنا ہے آپ حدیث بیان فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ کا ثواب دیتا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلکہ میں نے دو لاکھ کا فرمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے اسی جملے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ ”دنیا جو گزر گئی اور جو باقی ہے وہ سب آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:10030/6:ضعیف]
مروی ہے کہ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ نے اپنے انتقال کے وقت اپنا کفن منگوایا اسے دیکھ کر فرمایا: ”بس میرا تو دنیا سے یہی حصہ تھا میں اتنی دنیا لے کر جا رہا ہوں پھر پیٹھ موڑ کر رو کر کہنے لگے ہائے دنیا تیرا بہت بھی کم ہے اور تیرا کم تو بہت ہی چھوٹا ہے افسوس ہم تو دھوکے میں ہی رہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ اپنے دل میں پھولنا نہیں کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اگر تم درست نہ رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں برباد کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ کے ساتھی اوروں کو کر دے گا جو تم جیسے نہ ہوں گے۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ نہیں کہ تم نہ جاؤ تو مجاہدین جہاد کر ہی نہ سکیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں پر اپنے غلاموں کو غالب کر سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت «اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا» ۱؎ [9-التوبہ:41] اور آیت «مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ» ۱؎ [9-التوبہ:120] یہ سب آیتیں آیت «وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً» ۱؎ [9-التوبہ:12] سے منسوخ ہیں۔
لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ علیہ اس کی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”یہ منسوخ نہیں بلکہ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے نکلنے کو فرمائیں وہ فرمان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہو جائیں۔“ فی الواقع یہ توجیہ بہت عمدہ ہے واللہ اعلم۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
اعلم أنَّ كثيراً من هذه السورة الكريمة نزلت في غزوة تبوك، إذ ندب النبي - صلى الله عليه وسلم - المسلمين إلى غزو الروم، وكان الوقت حارًّا والزاد قليلاً والمعيشة عَسِرة ، فحصل من بعض المسلمين من التثاقل ما أوجب أن يعاتِبَهم الله تعالى عليه ويستنهِضَهم، فقال تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا}: ألا تعملون بمقتضى الإيمان ودواعي اليقين من المبادرة لأمر الله والمسارعة إلى رضاه وجهاد أعدائه والنصرة لدينكم؛ فما {لكم إذا قيلَ لكم انفِروا في سبيل الله اثَّاقَلْتُم إلى الأرض}؛ أي: تكاسلتم وملتم إلى الأرض والدَّعة والسكون فيها. {أرَضيتم بالحياة الدُّنيا من الآخرة}؛ أي: ما حالُكم إلاَّ حال مَن رضي بالدنيا وسعى لها ولم يبال بالآخرة؛ فكأنه ما آمن بها. {فما متاعُ الحياة الدنيا}: التي مالت بكم وقدَّمتموها على الآخرة {إلَّا قليلٌ}: أفليس قد جعل الله لكم عقولاً تزنون بها الأمور؟ وأيُّها أحقُّ بالإيثار؟! أفليست الدنيا من أولها إلى آخرها لا نسبة لها في الآخرة؟! فما مقدار عمر الإنسان القصير جدًّا من الدنيا حتى يجعله الغاية التي لا غاية وراءها فيجعلَ سعيَهُ وكدَّه وهمَّه وإرادته لا يتعدَّى الحياة الدُّنيا القصيرة المملوءة بالأكدار المشحونة بالأخطار؟! فبأيِّ رأي رأيتم إيثارها على الدار الآخرة، الجامعة لكلِّ نعيم، التي فيها ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين وأنتم فيها خالدون؟! فوالله ما آثر الدُّنيا على الآخرة من وَقَرَ الإيمان في قلبه، ولا مَنْ جزل رأيه، ولا من عُدَّ من أولي الألباب.