تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ثَانِيَ اثْنَيْنِ:} ”دو میں سے دوسرا“ سے مراد پہلا ہے۔ {” ثَانِيَ اثْنَيْنِ “} میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی طرح {” ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ“} یا {”رَابِعُ اَرْبَعَةٍ“} میں ثالث یا رابع وہ ہو گا جو پہلا ہو گا، باقی بعد میں ہوں گے، ہاں {” رَابِعُ ثَلَاثَةٍ“} یا {” خَامِسُ اَرْبَعَةٍ “} میں رابع یا خامس وہ ہو گا جو بعد میں ملے گا اور اس کا نمبر چوتھا یا پانچواں ہو گا۔ [الوسیط للطنطاوی] تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوسرے ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور اکثر دینی منصبوں اور عہدوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے نمبر پر وہی فائز رہے۔ سب سے پہلے مسلمان ہوئے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، جس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم مسلمان ہوئے، جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ نہیں ہوئے۔ مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت تاکیدی حکم کے ساتھ اور کسی بھی دوسرے کی امامت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کے بعد آپ کے قائم مقام کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر کھڑے ہوئے، پھر آپ کے پہلو میں دفن ہوئے، اس طرح اول و آخر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دوسرا ہونے کا شرف حاصل رہا۔
➌ { اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ:} یہاں صاحب (ساتھی) ہونے کا شرف بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے۔ صاحب کا لفظ اصل میں اکثر اوقات ساتھ رہنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے بیوی کو {” صَاحِبَةٌ “} کہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ» [الأنعام: ۱۰۱] ”اس کی اولاد کیسے ہو گی جبکہ اس کی کوئی بیوی ہی نہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبِ رسول یعنی آپ کے خاص ساتھی اور یار غار ہونے کا منکر ہے وہ درحقیقت قرآن کا منکر ہے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”رفیق غار ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، صرف یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، دوسرے اصحاب بعض پہلے نکل گئے تھے بعض بعد میں آئے۔“ (موضح)
➍ { اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ:} اس غار سے مراد ثور پہاڑ کی چوٹی کے قریب واقع غار ہے، جو مکہ سے جنوب کی طرف تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ آپ کا تعاقب کیا جائے گا، اس لیے آپ نے مدینے کا راستہ جو شمال کی طرف ہے، چھوڑ کر جنوب کی سمت اختیار کی اور غار ثور میں چھپ گئے، تاکہ تلاش کرنے والے آپ کو آسانی سے پا نہ سکیں۔ تفسیر ماجدی میں ہے: ”اس غار کا دہانہ اب تک اتنا تنگ ہے کہ اندر صرف لیٹ کر ہی جانا ممکن ہے۔“ شیخ رشید رضا مصری نے تفسیر المنار میں ایک مصری امیر الحج ابراہیم رفعت پاشا (سنِ حج 1318ھ) کے حوالے سے غار کی پیمائش وغیرہ دی ہے اور اس کی تنگی کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تین دن چھپے رہے، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے، آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر ہو چکا تھا، اس لیے دشمنوں نے آپ کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی، حتیٰ کہ بعض قدموں کے نشان پہچاننے والے غار کے سرے پر پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے قدم نظر آنے لگے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فکر لاحق ہوئی اور وہ سخت غم زدہ ہو گئے۔
➎ {لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا:} انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، جب کہ میں اس غار میں تھا: ”اگر ان میں سے کوئی شخص اپنے قدموں کے نیچے نظر ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دو کے متعلق تمھارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [بخاری، فضائل أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، باب مناقب المہاجرین وفضلھم…: ۳۶۵۳] {” اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا “} (بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے) اس ”ساتھ“ سے مراد خاص ساتھ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت، ورنہ عام معیت (ساتھ) تو ہر شخص کو حاصل ہے، فرمایا: «وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» [الحدید: ۴] ”اور وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے سمندر کے کنارے پہنچنے پر اور فرعون کی فوج کو دیکھنے پر ان کی قوم نے اپنے پکڑے جانے کا خطرہ پیش کیا تو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: «كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ» [الشعراء: ۶۲] ”ہر گز نہیں، بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے۔“ چنانچہ انھوں نے {” مَعِيَ “} یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت میں اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا» ”بے شک اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔“
➏ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ:} یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔ بعض مفسرین نے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ لیے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو اللہ تعالیٰ کی سکینت پہلے ہی نازل تھی، مگر اس سے {”عَلَيْهِ“} کی ضمیر کی بعد میں آنے والی ضمیر {” وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا “} کے ساتھ مطابقت نہیں رہتی اور کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پہلی سکینت کے علاوہ خاص سکینت نازل فرمائی ہو۔ جس سے آپ کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوا ہو، اس لیے یہی راجح معلوم ہوتا ہے کہ {” عَلَيْهِ “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
➐ {وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا:} یعنی فرشتوں کے لشکروں کے ساتھ جنھیں تم نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے تعاقب کرنے والوں کی نگاہیں آپ پر پڑنے ہی نہیں دیں۔ جیسا کہ حنین میں مدد فرمائی (دیکھیے توبہ: ۲۶) اور بدر میں (دیکھیے انفال: ۹۔ آل عمران: ۱۲۴، ۱۲۵)۔
➑ بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ عنکبوت (مکڑی) نے جالا بن دیا تھا اور کبوتری نے گھونسلا بنا کر انڈے دے دیے تھے، مگر یہ بات ثابت نہیں، الشیخ علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے سلسلہ ضعیفہ میں عنکبوت کے قصے کو ضعیف قرار دیا ہے۔
➒ {وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى …:} یعنی ہجرت، بدر، احد، خندق، حدیبیہ، فتح مکہ، حنین، تبوک، ہر جگہ کفر کو نیچا دکھایا۔ {” وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا “} اور اللہ تعالیٰ کا بول ہی سب سے بالا اور اس کی بات ہی سب سے اونچی ہے، اگر کہیں مسلمان نیچے رہے تو اللہ کی بات کے نیچا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان و عمل کی کسی کمی کی وجہ سے، فرمایا: «وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [آل عمران: ۱۳۹]”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور دیکھیے سورۂ محمد(۳۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تین دن مارے خوف کے اس ڈر سے غار میں گزارے تاکہ ڈھونڈھنے والے مایوس ہو کر واپس چلے جائیں تو یہاں سے نکل کر مدینہ منورہ کا راستہ لیں۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ لمحہ بہ لمحہ گھبرا رہے تھے کہ کسی کو پتہ نہ چل جائے ایسا نہ ہو کہ وہ رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی ایذاء پہنچائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تسکین فرماتے اور ارشاد فرماتے کہ ”ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان دو کی نسبت تیرا کیا خیال ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ مسند احمد میں ہے کہ سیدنا ابوبکر بن ابوقحافہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غار میں کہا کہ ”اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کو بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دو کو کیا سمجھتا ہے جن کا تیسرا خود اللہ تعالیٰ ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:3922]
اسی لئے اسی کے ساتھ فرمایا کہ اپنے غائبانہ لشکر اتار کر اس کی مدد فرمائی یعنی بذریعہ فرشتوں کے۔ اللہ تعالیٰ نے کلمہ کفر دبا دیا اور اپنے کلمے کا بول بالا کیا شرک کو پست کیا اور توحید کو اونچا کیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی بہادری کے لیے، دوسرا حمیت قومی کے لیے، تیسرا لوگوں کو خوش کرنے کیلئے لڑ رہا ہے تو ان میں سے اللہ کی راہ کا مجاہد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کلمہء اللہ کو بلند و بالا کرنے کی نیت سے لڑے وہ اللہ کی راہ کا مجاہد ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:2810]
اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر غالب ہے۔ جس کی مدد کرنا چاہے کرتا ہے نہ اس کے سامنے کوئی پڑ سکے نہ اس کے ارادے کو کوئی بدل سکے کون ہے جو اس کے سامنے لب ہلا سکے یا آنکھ ملا سکے؟ اس کے سب اقوال افعال، حکمت و مصلحت بھلائی اور خوبی سے پر ہیں۔ تعالیٰ شانہ وجد مجدہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: إلا تنصروا رسوله محمداً - صلى الله عليه وسلم -؛ فالله غنيٌّ عنكم، لا تضرُّونه شيئاً؛ فقد نصره في أقلِّ ما يكون وَأَذَلِّهِ {إذ أخرجه الذين كفروا}: من مكة، لما همُّوا بقتله وسَعَوا في ذلك وحرصوا أشدَّ الحرص فألجؤوه إلى أن يخرج. {ثاني اثنينِ}؛ أي: هو وأبو بكر الصديق رضي الله عنه. {إذ هما في الغار}؛ أي: لما هربا من مكة؛ لجآ إلى غار ثور في أسفل مكة، فمكثا فيه ليبرد عنهما الطلب؛ فهما في تلك الحالة الحرجة الشديدة المشقَّة حين انتشر الأعداء من كلِّ جانب يطلبونهما ليقتلوهما، فأنزل الله عليهما من نصره ما لا يخطُر على البال. {إذ يقولُ}: النبي - صلى الله عليه وسلم - {لصاحبِهِ}: أبي بكر لما حزن واشتدَّ قلقُه: {لا تحزنْ إنَّ الله معنا}: بعونه ونصره وتأييده، {فأنزل الله سكينَتَه عليه}؛ أي: الثبات والطمأنينة والسكون المثبِّتة للفؤاد، ولهذا لما قلق صاحبه؛ سكَّنه وقال: لا تحزنْ إنَّ الله معنا. {وأيَّده بجنودٍ لم تَرَوْها}: وهي الملائكة الكرام، الذين جعلهم الله حرساً له.
{وجعل كلمةَ الذين كفروا السفلى}؛ أي: الساقطة المخذولة؛ فإنَّ الذين كفروا [قد] كانوا على حَرْدٍ قادرين في ظنِّهم على قتل الرسول - صلى الله عليه وسلم - وأخذه حنقين عليه، فعملوا غاية مجهودهم في ذلك، فخذلهم الله ولم يُتِمَّ لهم مقصودَهم، بل ولا أدركوا شيئاً منه، ونصر الله رسوله بدفعه عنه، وهذا هو النصر المذكور في هذا الموضع؛ فإنَّ النصر على قسمين: نصر المسلمين إذا طمعوا في عدوِّهم بأن يُتِمَّ اللهُ لهم ما طلبوا وقصدوا ويستولوا على عدوِّهم ويظهروا عليهم. والثاني: نصر المستضعَف الذي طمع فيه عدوُّه القادر، فنصْرُ اللهِ إياه أن يردَّ عنه عدوَّه، ويدافع عنه، ولعل هذا النصر أنفع النصرين، ونَصْرُ اللَّهِ رسولَه إذ أخرجه الذين كفروا ثاني اثنين من هذا النوع. وقوله: {وكلمةُ اللهِ هي العليا}؛ أي: كلماته القدريَّة وكلماته الدينيَّة هي العالية على كلمة غيره، التي من جملتها قوله: {وكان حقًّا علينا نَصْرُ المؤمنين}، {إنَّا لننصُرُ رسلَنا والذين آمنوا في الحياة الدُّنيا ويوم يقومُ الأشهادُ}، {وإنَّ جندَنا لهم الغالبون}؛ فدين الله هو الظاهر العالي على سائر الأديان بالحجج الواضحة والآيات الباهرة والسلطان الناصر. {والله عزيزٌ}: لا يغالبه مغالبٌ ولا يفوته هاربٌ، {حكيم}: يضعُ الأشياء مواضعها، ويؤخِّرُ نصرَ حزبه إلى وقتٍ آخر اقتضته الحكمة الإلهية.
وفي هذه الآية الكريمة فضيلة أبي بكر الصديق بخصيصة لم تكن لغيره من هذه الأمة، وهي الفوز بهذه المنقبة الجليلة والصحبة الجميلة، وقد أجمع المسلمون على أنَّه هو المراد بهذه الآية الكريمة، ولهذا عدُّوا من أنكر صحبة أبي بكر للنبي - صلى الله عليه وسلم - كافراً؛ لأنَّه منكر للقرآن الذي صرَّح بها. وفيها فضيلةُ السكينة، وأنها من تمام نعمة الله على العبد في أوقات الشدائد والمخاوف التي تطيش لها الأفئدة، وأنها تكون على حسب معرفة العبد بربِّه وثقته بوعدِهِ الصادق وبحسب إيمانه وشجاعتِهِ. وفيها أنَّ الحزن قد يعرض لخواصِّ عباد الله الصديقين، مع أنَّ الأولى إذا نزل بالعبد أن يسعى في ذهابه عنه؛ فإنه مضعِفٌ للقلب موهِنٌ للعزيمة.