اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور بدل کر تمھارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل ﻻئے گا، تم اللہ تعالی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّاتَنْفِرُوْایُعَذِّبْكُمْعَذَابًااَلِیْمًا﴾”اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب“ دنیا اور آخرت میں۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور نہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔
نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چرانے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِلَّاتَنْفِرُوْایُعَذِّبْكُمْعَذَابًااَلِیْمًاوَّیَسْتَبْدِلْقَوْمًاغَیْرَؔكُمْوَلَاتَضُرُّوْهُشَیْـًٔـا ﴾”اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لیے برابر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ﴾”اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کر سکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم توعدهم على عدم النفير، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبكم عذاباً أليماً}: في الدُّنيا والآخرة؛ فإن عدم النفير في حال الاستنفار من كبائر الذُّنوب الموجبة لأشدِّ العقاب؛ لما فيها من المضارِّ الشديدة؛ فإنَّ المتخلِّف قد عصى الله تعالى، وارتكب لنهيه، ولم يساعد على نصر دين الله، ولا ذبَّ عن كتاب الله وشرعه، ولا أعان إخوانه المسلمين على عدوِّهم الذي يريد أن يستأصلهم ويمحقَ دينهم، وربما اقتدى به غيره من ضعفاء الإيمان، بل ربما فتَّ في أعضاد من قاموا بجهاد أعداء الله؛ فحقيقٌ بمن هذا حاله أن يتوعَّده الله بالوعيد الشديد، فقال: {إلَّا تَنفِروا يعذِّبْكم عذاباً أليماً ويستبدلْ قوماً غيركم}: ثم لا يكونوا أمثالكم، {ولا تضرُّوه شيئاً}؛ فإنه تعالى متكفِّل بنصر دينه وإعلاء كلمته؛ فسواءٌ امتثلتم لأمر الله أو ألقيتموه وراءكم ظِهْرِيًّا. {والله على كل شيء قديرٌ}: لا يعجِزُه شيء أراده ولا يغالبه أحدٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔