تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ …:} یعنی اس لیے کہ کفار کی اتنی کثرت اور تیاری اور مسلمانوں کی قلت اور بے سروسامانی کے باوجود مسلمانوں کی فتح کے ساتھ کفار پر حجت پوری ہو جائے اور اسلام کی حقانیت واضح ہو جائے، اس کے بعد اگر کوئی کافر رہے تو دلیل دیکھ کر کافر رہے اور ہلاکت میں پڑے اور جو کوئی مسلمان ہو تو وہ بھی دلیل دیکھ کر مسلمان ہو اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[46] یعنی اگر کافر اور مسلمان آپس میں لڑائی کے لیے کوئی عہد و پیمان کرتے تو عین ممکن تھا کہ دونوں فریق یا کوئی ایک فریق وعدہ خلافی کر کے مقر رہ وقت اور مقر رہ جگہ پر نہ پہنچ سکتا یا پہنچنے سے راہ فرار اختیار کر جاتا اور اس طرح یہ معرکہ حق و باطل وقوع پذیر ہی نہ ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حالات ہی ایسے پیدا کر دیئے کہ یہ جنگ واقع ہو کے رہی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ ’ اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لیے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہو جاتے۔ ‘ اس لیے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا یہ ارادہ پورا ہو جائے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلندی حاصل ہو اور شرک اور مشرکوں کو پستی ملے پس جو کرنا تھا اللہ پاک کر گذرا۔
چنانچہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو صرف قافلے کے ارادے سے ہی نکلے تھے اللہ نے دشمن سے مڈبھیڑ کرا دی بغیر کسی تقرر کے اور بغیر کسی جنگی تیاری کے۔ ابوسفیان ملک شام سے قافلہ لے کر چلا ابوجہل اسے مسلمانوں سے بچانے کیلئے مکے سے نکلا۔ قافلہ دوسرے راستے سے نکل گیا اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ ہو گئی اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بے خبر تھے ایک دوسرے کو خصوصاً پانی لانے والوں کو دیکھ کر انہیں ان کا اور انہیں ان کا علم ہوا۔
مجدیٰ بن عمرو بیچ میں بول اٹھا اور کہا یہ سچ کہتی ہے اسے ان دونوں صحابیوں رضی اللہ عنہم نے سن لیا اپنے اونٹ کسے اور فوراً خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ادھر ابوسفیان اپنے قافلے سے پہلے یہاں اکیلا پہنچا اور مجدی بن عمرو سے کہا کہ اس کنویں پر تم نے کسی کو دیکھا؟ اس نے کہا نہیں البتہ دو سوار آئے تھے اپنے اونٹ اور ٹیلے پر بٹھائے اپنی مشک میں پانی بھر اور چل دئیے۔
یہ سن کر یہ اس جگہ پہنچا مینگنیاں لیں اور انہیں توڑا اور کھجورں کی گھٹلیاں ان میں پا کر کہنے لگا واللہ یہ مدنی لوگ ہیں وہیں سے واپس اپنے قافلے میں پہنچا اور راستہ بدل کر سمندر کے کنارے چل دیا جب اسے اس طرف سے اطمینان ہو گیا تو اس نے اپنا قاصد قریشیوں کو بھیجا کہ اللہ نے تمہارے قافلے مال اور آدمیوں کو بچا لیا تم لوٹ جاؤ یہ سن کر ابوجہل نے کہا نہیں جب یہاں تک ہم آ چکے ہیں تو ہم بدر تک ضرور جائیں گے یہاں ایک بازار لگا کرتا تھا۔ وہاں ہم تین روز ٹھہریں گے وہاں اونٹ ذبح کریں گے۔ شرابیں پئیں گے کباب بنائیں گے تاکہ عرب میں ہماری دھوم مچ جائے اور ہر ایک کو ہماری بہادری اور بے جگری معلوم ہو اور وہ ہمیشہ ہم سے خوف زدہ رہیں۔ لیکن اخنس بن شریق نے کہا کہ بنو زہرہ کے لوگو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال محفوظ کر دیئے تم کو چاہیئے کہ اب واپس چلے جاؤ۔ اس کے قبیلے نے اس کی مان لی یہ لوگ اور بنو عدی لوٹ گئے۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:31/3:]
اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان سے سوال کرنا شروع کیا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا قریش کے سقے ہیں انہوں نے ہمیں پانی لانے کیلئے بھیجا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا کہ یہ ابوسفیان کے آدمی ہیں اس لیے انہوں نے ان پر سختی شروع کی آخر گھبرا کر انہوں نے کہدیا کہ ہم ابوسفیان کے قافلے کے ہیں تب انہیں چھوڑا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور فرمایا کہ { جب تک یہ سچ بولتے رہے تم انہیں مارتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے جھوٹ کہا تم نے چھوڑ دیا واللہ یہ سچے ہیں یہ قریش کے غلام ہیں۔ ہاں جی بتاؤ قریش کا لشکر کہاں ہے؟} انہوں نے کہا وادی قصویٰ کے اس طرف ٹیلے کے پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ تعداد میں کتنے ہیں؟} انہوں نے کہا بہت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { آخر کتنے ایک؟ } انہوں نے کہا تعداد تو ہمیں معلوم نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اچھا یہ بتا سکتے ہو ہر روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں؟ } انہوں نے کہا ایک دن نو ایک دن دس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { پھر وہ نو سو سے ایک ہزار تک ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں سرداران قریش میں سے کون کون ہیں؟ } انہوں نے جواب دیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوالبختری بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود، ابوجہل، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: { لو مکے نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف ڈال دیئے ہیں۔} ۱؎ [صحیح مسلم:1779]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس مشورے کی قدر کی انہیں دعا دی اور اس ڈیرے میں آپ ٹھہر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور کوئی نہ تھا۔۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:44/3:]
صبح ہوتے ہی قریشیوں کے لشکر ٹیلے کے پیچھے سے آتے ہوئے نمودار ہوئے انہیں دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب باری میں دعا کی کہ { باری تعالیٰ یہ فخر و غرور کے ساتھ تجھ سے لڑنے اور تیرے رسول کو جھٹلانے کیلئے آ رہے ہیں، باری تعالیٰ تو انہیں پست و ذلیل کر۔}
جیسے فرمان قرآن ہے «أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ» ۱؎ [6-الأنعام: 122] یعنی ’ وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلا دیا اور اس کے لیے نور بنا دیا کہ اس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چل پھر رہا ہے۔‘
تہمت کے قصہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں کہ ”پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہو گیا یعنی بہتان میں حصہ لیا۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:2966]
’ اللہ تعالیٰ تمہارے تضرع و زاری اور تمہاری دعا و استغفار اور فریاد و مناجات کا سننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم اہل حق ہو تم مستحق امداد ہو تم اس قابل ہو کر تمہیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ دیا جائے۔‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذ أنتم بالعُدْوَةِ الدُّنيا}؛ أي: بعُدْوَة الوادي القريبة من المدينة. وهم بعدوته؛ أي: جانبه البعيدة من المدينة؛ فقد جمعكم وادٍ واحدٌ. {والركب}: الذي خرجتُم لطلبه، وأراد الله غيره {أسفلَ منكم}: مما يلي ساحل البحر. {ولو تواعدتُم}: أنتم وإيَّاهم على هذا الوصف وبهذه الحال، {لاختلفتُم في الميعادِ}؛ أي: لا بدَّ من تقدُّم أو تأخُّر أو اختيار منزل أو غير ذلك مما يعرض لكم أو لهم يصدُفُكم عن ميعادهم. ولكنَّ: اللهَ جمعكم على هذه الحال، {لِيَقْضِيَ الله أمرا كان مفعولا}؛ أي: مقدراً في الأزل لا بدَّ من وقوعه. {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عن بيِّنة}؛ أي: ليكون حجَّة وبيَّنة للمعاند، فيختار الكفر على بصيرة وجزم ببطلانه، فلا يبقى له عذرٌ عند الله. {ويحيا مَنْ حَيَّ عن بيِّنةٍ}؛ أي: يزداد المؤمن بصيرةً ويقيناً بما أرى الله الطائفتين من أدلَّة الحقِّ وبراهينه ما هو تذكرة لأولي الألباب. {وإن الله لسميعٌ عليمٌ}: سميعٌ لجميع الأصوات باختلاف اللُّغات على تفنُّن الحاجات، عليمٌ بالظواهر والضمائر والسرائر والغيب والشهادة.