تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ:} یعنی کوئی کہتا لڑو اور کوئی کہتا نہ لڑو، وہ بہت ہیں اور ہم کم۔
➌ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ:} یعنی نہ ہمت ہار جانے کا موقع دیا اور نہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں «مَنَامِ» کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہو جائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کر کے دکھائی۔
اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہو جائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔
پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کر چکا تھا پورا ہو جائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔
جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چنانچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔
جیسے کہ «قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُم مِّثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ وَاللَّـهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ» ۱؎ [3-آل عمران: 13]، میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وكان الله قد أرى رسولَه المشركين في الرؤيا العدو قليلاً، فبشَّر بذلك أصحابه، فاطمأنَّت قلوبُهم وثبتت أفئدتهم. {ولو أراكَهم اللهُ كثيراً}: فأخبرتَ بذلك أصحابك، {لَفَشِلْتُم ولَتَنازَعْتُم في الأمر}: فمنكم من يرى الإقدامَ على قتالهم ومنكم من لا يرى ذلك، والتنازع مما يوجب الفشل ، {ولكنَّ الله سلَّم}؛ أي: لطف بكم. {إنَّه عليمٌ بذات الصُّدور}؛ أي: بما فيها من ثبات وجَزَع وصدق وكذب، فعلم الله من قلوبكم ما صار سبباً للطفه وإحسانِهِ بكم وصدق رؤيا رسوله، فأرى الله المؤمنين عدوَّهم قليلاً في أعينهم، ويقلِّلكم يا معشر المؤمنين في أعينهم؛ فكلٌّ من الطائفتين ترى الأخرى قليلة؛ لِتُقْدِمَ كلٌّ منهما على الأخرى. {ليقضيَ اللهُ أمراً كان مفعولاً}: من نصر المؤمنين، وخذلان الكافرين، وقتل قادتهم ورؤساء الضلال منهم، ولم يَبْقَ منهم أحدٌ له اسم يذكر، فيتيسَّر بعد ذلك انقيادُهم إذا دُعوا إلى الإسلام، فصار أيضاً لطفاً بالباقين، الذين مَنَّ الله عليهم بالإسلام. {وإلى الله تُرْجَعُ الأمور}؛ أي: جميع أمور الخلائق تَرْجِعُ إلى الله، فَيميزُ الخبيثَ من الطيب، ويحكمُ في الخلائق بحكمه العادل الذي لا جَوْر فيه ولا ظلم.