تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ سورت کے شروع میں ”انفال“ کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان ہوتا ہے۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے «وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ» میں لڑائی کا حکم ہے جس کے نتیجے میں عموماً مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے، اس لیے اب اس کے خرچ کی جگہیں بیان فرمائیں۔
➌ { مِنْ شَيْءٍ:} اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چیز بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی، کوئی شخص اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق سوئی دھاگا حتیٰ کہ اونٹ کی اون کی گچھی تک جمع کروانا ہو گی، اگر رکھے گا تو یہ غلول (خیانت) شمار ہو گا، جس کی وعید سورۂ آل عمران (۱۶۱) میں ہے۔
➍ { فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ …:} مطلب یہ ہے کہ کل غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے، چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنھوں نے جنگ میں شرکت کی، ان میں بھی پیادے کو ایک حصہ اور سوار کو تین حصے ملیں گے، ایک اس کا اپنا اور دو حصے گھوڑے کے اور خمس (پانچواں حصہ) ان اغراض کے لیے الگ کر لیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی امت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر احسان ہے، ورنہ پہلی امتوں میں تو اموال غنیمت حلال ہی نہ تھے بلکہ انھیں جلا دیا جاتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا نام بطور برکت و تمہید آیا ہے، کیونکہ سب مال اللہ ہی کا ہے۔ اصل میں خمس کے مصرف پانچ ہیں، ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اور اپنی بیویوں کی ضروریات کے بعد عام مسلمانوں کی مصلحت میں خرچ کرتے تھے، مثلاً مجاہدین کے لیے اسلحہ اور سواریاں وغیرہ۔ آپ کے بعد خلیفۂ وقت جہاں مناسب سمجھے خرچ کرنے میں آپ کا جانشین ہو گا۔ خمس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے مال غنیمت میں سے کوئی ایک چیز مثلاً کوئی ہتھیار یا گھوڑا یا لونڈی اپنے لیے رکھنے کا اختیار تھا، اسے {”صَفِيٌّ“} کہتے ہیں۔ {” وَ لِذِي الْقُرْبٰى “} سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار ہیں، آپ کے جد اعلیٰ عبد مناف کی اولاد چار قبیلے تھے، بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو عبد شمس اور بنو نوفل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو ہاشم میں سے تھے، مگر آپ نے {” ذَوِي الْقُرْبٰي“} میں سے پہلے دو قبیلوں کو خمس میں سے حصہ دیا، بعد والے دو کو نہیں دیا اور ان کے پوچھنے پر بتایا کہ بنو مطلب اسلام لانے سے پہلے بھی بنو ہاشم کے ساتھی رہے ہیں، جبکہ آخری دونوں قبیلے اس وقت مخالفت میں سر گرم رہتے تھے۔ {” الْيَتٰمٰى “} وہ نا بالغ بچے جن کے باپ فوت ہو چکے ہوں۔ {” الْمَسٰكِيْنِ “} وہ ضرورت مند جن کی آمدنی ضرورت سے کم ہو۔ {” ابْنِ السَّبِيْلِ “} راہ گیر مسافر۔ اس خمس کا پانچ حصوں میں تقسیم کا طریقہ کیا ہو گا؟ کیا سب کو برابر دیا جائے گا، یا حسب ضرورت خرچ کیا جائے گا؟ امام مالک اور اکثر سلف رحمہم اللہ کا خیال ہے کہ امام (خلیفۂ اسلام) کو اختیار ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی مصلحت، مثلاً جہاد کی تیاری، اسلحہ کی خریداری وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس طرح چاہے اسے تقسیم یا خرچ کرے۔ اسی پر خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم کا عمل رہا ہے۔ (قرطبی) نسائی کی حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کی کوہان سے دو انگلیوں میں تھوڑی سی پشم پکڑی، پھر فرمایا: ”میرے لیے فے (غنیمت) میں سے کچھ نہیں، حتیٰ کہ یہ (پشم) بھی نہیں، مگر پانچواں حصہ اور وہ پانچواں حصہ بھی تمھی میں لوٹایا جائے گا۔“ [نسائی،أول کتاب قسم الفیٔ: ۴۱۴۴، و صححہ الألبانی] پھر ضروری نہیں کہ پانچ حصوں میں برابر تقسیم کرے، جہاں زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہو زیادہ کر سکتا ہے۔ حافظ ابن تیمیہ اور ابن کثیر رحمھما اللہ نے اس کو سب سے صحیح قول قرار دیا ہے۔
➎ {وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا:} یعنی جو فرشتے، آیات و معجزات اور نصرتِ الٰہی بدر میں اللہ تعالیٰ نے اتارے۔ {” عَبْدِنَا “} میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بندہ کہہ کر خاص اعزاز بخشا، جیسا کہ «سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ» [بنی إسرائیل: ۱] میں اور «وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا» [البقرۃ: ۲۳] میں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا یہ اعزاز بہت عزیز تھا، آپ کی مشہور دعا ہے: [اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِيْ بِيَدِكَ] [أحمد: 391/1، ح: ۳۷۱۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ]
➏ {يَوْمَ الْفُرْقَانِ: ” الْفُرْقَانِ “} واضح فیصلہ، یعنی بدر کے دن جس میں حق اور باطل کا فیصلہ ہوا، حق کو فتح ہوئی اور باطل مغلوب ہوا۔ (ابن کثیر) حق و باطل کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ جنگ تھی جو ۱۷ رمضان بروز جمعہ (بروایت ابن جریر عن علی) واقع ہوئی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[43۔ 1]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی لیے قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورۃ الحشر کی «مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ» ۱؎ [59-الحشر: 7] کی ناسخ ہے۔
اب مال غنیمت میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آیت تو فے کے بارے میں ہے اور یہ غنیمت کے بارے میں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے مال کی تقسیم امام کی رائے پر ہے۔ پس مقررہ حشر کی آیت اور اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں جبکہ امام کی مرضی ہو «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
آیت میں بیان ہے کہ خمس یعنی پانچواں حصہ مال غنیمت میں سے نکال دینا چاہیئے۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ہو۔ گو سوئی ہو یا دھاگہ ہو۔ پروردگار عالم فرماتا ہے «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:161] ’ جو خیانت کرے گا وہ اسے لے کر قیامت کے دن پیش ہو گا اور ہر ایک کو اس عمل کا پورا بدلہ ملے گا کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔‘
کہتے ہیں کہ خمس میں سے اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ کعبے میں داخل کیا جائے گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اللہ کا نام صرف بطور تبرک ہے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے کے بیان کا وہ شروع ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی لشکر بھیجتے اور مال غنیمت کا مال ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانچ حصے کرتے اور پھر پانچویں حصے کے پانچ حصے کر ڈالتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔
پس یہ فرمان کہ «أَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ» یہ صرف کلام کے شروع کیلئے ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے بہت سے بزرگوں کا قول یہی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی حصہ ہے۔
اسی کی تائید بیھقی کی اس صحیح سند والی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی القریٰ میں آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے باقی کے چار حصے لشکریوں کے۔ } اس نے پوچھا تو اس میں کسی کو کسی پر زیادہ حق نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہرگز نہیں یہاں تک کہ تو اپنے کسی دوست کے جسم سے تیر نکالے تو اس تیر کا بھی تو اس سے زیادہ مستحق نہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی السنن الکبری:324/6]
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کے پانجویں حصے کی وصیت کی اور فرمایا کیا میں اپنے لیے اس حصے پر رضامند نہ ہو جاؤں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنا رکھا ہے؟
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کا حصہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا ہے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ ہے وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اختیار ہے جس کام میں آپ چاہیں لگائیں۔
مقدام بن معدیکرب عبادہ بن صامت ابودرداء اور حارث بن معاویہ کندی رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر ہونے لگا تو ابوداؤد نے عبادہ بن صامت سے کہا فلاں فلاں غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ { حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہاد میں خمس کے ایک اونٹ کے پیچھے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہو گئے اور چند بال چٹکی میں لے کر فرمایا کہ ”مال غنیمت کے اونٹ کے یہ بال بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے نہیں ہیں میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتا ہے پس سوئی دھاگے تک ہر چھوٹی بڑی چیز پہنچا دیا کرو، خیانت نہ کرو، خیانت عار ہے اور خیانت کرنے والے کیلئے دونوں جہان میں آگ ہے۔ قریب والوں سے دور والوں سے راہ حق میں جہاد جاری رکھو۔ شرعی کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال تک نہ کرو۔ وطن میں اور سفر میں اللہ کی مقرر کردہ حدیں جاری کرتے رہو اللہ کے لیے جہاد کرتے رہو جہاد جنت کے بہت بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2850،قال الشيخ الألباني:صحیح] یہ حدیث حسن ہے اور بہت ہی اعلیٰ ہے۔
جیسا کہ محمد بن سیرین اور عامر شعبی رحمہ اللہ علیہم اور اکثر علماء نے فرمایا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن کے مال غنیمت میں سے تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اسی کے بارے میں احد والے دن خواب دیکھا تھا۔۱؎ [سنن ترمذي:1561،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابوداؤد وغیرہ میں ہے یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ { یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے زہیر بن اقیش کی طرف ہے کہ اگر تم اللہ کی وحدت کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دو اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور غنیمت کے مال سے خمس ادا کرتے رہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اور خالص حصہ ادا کرتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہو۔ } ہم نے ان سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے لکھ دیا ہے اس نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۱؎ [سنن ابوداود:2999،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس ان صحیح احادیث کی دلالت اور ثبوت اس بات پر ہے اسی لیے اکثر بزرگوں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے شمار کیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔
اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مصلحت میں صرف ہو گا ایک قول ہے کہ یہ بھی اہل حاجت کی بقایا قسموں پر خرچ ہو گا یعنی قرابت دار یتیم مسکین اور مسافر۔ امام ابن جریر کا مختار مذہب یہی ہے اور بزرگوں کا فرمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کا حصہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا جائے۔
عراق والوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور کہا گیا ہے خمس کا یہ پانچواں حصہ سب کا سب قرابت داروں کا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن محمد بن علی اور علی بن حسین رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ یہ ہمارا حق ہے پوچھا گیا کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں کا بھی ذکر ہے تو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد بھی ہمارے یتیم اور مسکین ہیں۔
ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں صدیق اکبر اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حصے کو جہاد کے کام میں خرچ کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بارے میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا وہ اس بارے میں ان سے سخت تھے۔ اکثر علماء رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔
ہاں ذوی القربیٰ کا جو حصہ ہے وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا ہے۔ اس لیے کہ اولاد عبدالمطلب نے اولاد ہاشم کی جاہلیت میں اور اول اسلام میں موافقت کی اور انہی کے ساتھ انہوں نے گھاٹی میں قید ہونا بھی منظور کر لیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستائے جانے کی وجہ سے یہ لوگ بگڑ بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں تھے، ان میں سے مسلمان تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وجہ سے۔ کافر خاندانی طرف داری اور رشتوں ناتوں کی حمایت کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کی فرمانبرداری کی وجہ سے ستائے گئے ہاں بنو عبدشمس اور بنو نوفل گو یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔
ان بیوقوفوں نے اپنے ہو کر ایک خاندان اور ایک خون کے ہو کر ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں وغیرہ۔ ایک موقعہ پر ابن جبیر بن معطم بن عدی بن نوفل اور سیدنا عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور شکایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدالملطب کو تو دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت داری کے لحاظ سے وہ اور ہم بالکل یکساں اور برابر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! بنو ہاشم اور بنو المطلب تو بالکل ایک ہی چیز ہیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3140]۔
بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ { انہوں نے تو مجھ سے نہ کبھی جاہلیت میں جدائی برتی نہ اسلام میں۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2980،قال الشيخ الألباني:]
مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ بنو ہاشم میں فقراء ہیں پس صدقے کی جگہ ان کا حصہ مال غنیمت میں مقرر کر دیا۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ قرابت دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی بن حسین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
بعض کہتے ہیں یہ سب قریش ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے استفتاء کیا گیا کہ ذوی القربیٰ کون ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر فرمایا کہ ہم تو کہتے تھے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نہیں مانتی وہ سب کہتے ہیں کہ سارے ہی قریش ہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1812] بعض روایتوں میں صرف پہلا جملہ ہی ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمہارے لیے لوگوں کے میل کچیل سے تو میں نے منہ پھیر لیا خمس کا پانچواں حصہ تمہیں کافی ہے۔ } یہ حدیث حسن ہے اس کے راوی ابراہیم بن مہدی کو امام ابوحاتم ثقہ بتاتے ہیں لیکن یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ منکر روایتیں لاتے ہیں۔ ۱؎ [میزان الاعتدال:68/1] «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
آیت میں یتیموں کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کے وہ بچے جن کا باپ فوت ہو چکا ہو۔ پھر بعض تو کہتے ہیں کہ یتیمی کے ساتھ فقیری بھی ہو تو وہ مستحق ہیں اور بعض کہتے ہیں ہر امیر فقیر یتیم کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ «مَسَاكِينِ» سے مراد وہ محتاج ہیں جن کے پاس اتنا نہیں کہ ان کی فقیری اور ان کی حاجت پوری ہو جائے اور انہیں کافی ہو جائے۔ «ابْنِ السَّبِيلِ» وہ مسافر ہے جو اتنی حد تک وطن سے نکل چکا ہو یا جا رہا ہو کہ جہاں پہنچ کر اسے نماز کو قصر پڑھنا جائز ہو اور سفر خرچ کافی اس کے پاس نہ رہا ہو۔ اس کی تفسیر سورۃ برات کی «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ» ۱؎ [9-التوبہ: 60] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے اور اسی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگر تمہارا اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی وحی پر ایمان ہے تو جو وہ فرما رہا ہے لاؤ یعنی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ الگ کر دیا کرو۔‘
بخاری و مسلم میں ہے کہ وفد عبدالقیس کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہیں چار باتوں کا حکم کرتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں۔ جانتے بھی ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا زکوٰۃ دینا اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔} ۱؎ [صحیح بخاری:53]
پھر اللہ تعالیٰ اپنا ایک احسان و انعام بیان فرماتا ہے کہ ’ اس نے حق و باطل میں فرق کر دیا۔ اپنے دین کو غالب کیا اپنے نبی کی اور آپ کے لشکریوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں انہیں غلبہ دیا۔ کلمہ ایمان کلمہ کفر پر چھا گیا۔ ‘
پس یوم الفرقان سے مراد بدر کا دن ہے جس میں حق و باطل کی تمیز ہوگئی۔ بہت سے بزرگوں سے یہی تفسیر مروی ہے۔ یہی سب سے پہلا غزوہ تھا۔ مشرک لوگ عتبہ بن ربیعہ کی ماتحتی میں تھے جمعہ کے دن انیس یا سترہ رمضان کو یہ لڑائی ہوئی تھی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور مشرکوں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تھی۔
مستدرک حاکم میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو گیارہویں رات میں ہی یقین کے ساتھ تلاش کرو اس لیے کہ اس کی صبح کو بدر کی لڑائی کا دن تھا۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ الفرقان جس دن دونوں جماعتوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی رمضان شریف کی سترہویں تھی یہ رات بھی جمعہ کی رات تھی۔ غزوے اور سیرت کے مرتب کرنے والے کے نزدیک یہی صحیح ہے۔
ہاں یزید بن ابوجعد رحمہ اللہ جو اپنے زمانے کے مصری علاقے کے امام تھے فرماتے ہیں کہ بدر کا دن پیر کا دن تھا لیکن کسی اور نے ان کی متابعت نہیں کی اور جمہور کا قول یقیناً ان کے قول پر مقدم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {واعلموا أنَّما غنمتُم من شيءٍ}؛ أي: أخذتم من مال الكفار قهراً بحقٍّ قليلاً كان أو كثيراً، {فأنَّ لله خُمُسَه}؛ أي: وباقيه لكم أيها الغانمون؛ لأنه أضاف الغنيمة إليهم، وأخرج منها خمسها، فدلَّ على أن الباقي لهم، يُقسم على ما قسمه رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: للراجل سهمٌ، وللفارس سهمان لفرسه وسهم له، وأما هذا الخمس؛ فيقسم خمسة أسهم: سهمٌ لله ولرسوله يُصْرَف في مصالح المسلمين العامة من غير تعيين لمصلحة؛ لأنَّ الله جعله له ولرسوله، والله ورسوله غنيَّان عنه، فعُلِمَ أنه لعباد الله؛ فإذا لم يعيِّن الله له مصرفاً؛ دلَّ على أن مَصْرِفَه للمصالح العامة. والخمس الثاني: لذي القربى، وهم قرابة النبي - صلى الله عليه وسلم - من بني هاشم وبني المطلب، وأضافه الله إلى القرابة دليلاً على أنَّ العلة فيه مجرَّد القرابة، فيستوي فيه غنيُّهم وفقيرهم ذكرهم وأنثاهم. والخمس الثالث: لليتامى، وهم الذين فقدت آباؤهم وهم صغارٌ، جعل الله لهم خُمُسَ الخمس رحمةً بهم، حيث كانوا عاجزين عن القيام بمصالحهم، وقد فُقِدَ من يقوم بمصالحهم. والخمس الرابع: للمساكين؛ أي: المحتاجين الفقراء من صغار وكبار ذكور وإناث. والخمس الخامس: لابن السبيل، و [هو] الغريب المنقطَعُ به في غير بلده، وبعض المفسرين يقول: إن خمس الغنيمة لا يخرُجُ عن هذه الأصناف، ولا يلزم أن يكونوا فيه على السواء، بل ذلك تَبَعٌ للمصلحة، وهذا هو الأولى.
وجعل الله أداء الخُمُس على وجهه شرطاً للإيمان، فقال: {إن كُنتم آمنتُم بالله وما أنزلْنا على عبدِنا يوم الفرقان}: وهو يوم بدرٍ، الذي فرَّق الله به بين الحقِّ والباطل، وأظهر الحقَّ وأبطل الباطل. {يوم التقى الجمعانِ}: جمع المسلمين وجمع الكافرين؛ أي: إن كان إيمانُكم بالله وبالحقِّ الذي أنزله الله على رسوله يوم الفرقان الذي حصل فيه من الآيات والبراهين ما دلَّ على أن ما جاء به هو الحقُّ. {والله على كلِّ شيء قدير}: لا يغالبه أحدٌ إلا غلبه.