جب تم قریب والے کنارے پر اور وہ دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور مقرر وقت کے بارے میں آگے پیچھے ہو جاتے اور لیکن تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو کیا جانے والا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے واضح دلیل سے زندہ رہے اور بے شک اللہ یقینا سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِذْاَنْتُمْبِالْعُدْوَةِالدُّنْیَا﴾”جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔“ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمْبِالْعُدْوَةِالْقُصْوٰى﴾”اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔“اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكْبُ ﴾”اور قافلہ“ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسْفَلَمِنْكُمْ ﴾”تم سے نیچے کی طرف تھا“ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوْتَوَاعَدْتُّمْ ﴾”اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔“ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخْتَلَفْتُمْفِیالْمِیْعٰدِ﴾”تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ“ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنْ ﴾”اور لیکن“ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّ٘یَقْ٘ضِیَاللّٰهُاَمْرًاكَانَمَفْعُوْلًا ﴾”تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔“﴿ لِّیَهْلِكَمَنْهَلَكَعَنْۢبَیِّنَةٍ ﴾”تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد“ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّیَحْیٰىمَنْحَیَّعَنْۢبَیِّنَةٍ ﴾”اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد“ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّاللّٰهَلَ٘سَمِیْعٌ ﴾”بے شک اللہ سننے والا ہے“ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِیْمٌ ﴾”جاننے والا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إذ أنتم بالعُدْوَةِ الدُّنيا}؛ أي: بعُدْوَة الوادي القريبة من المدينة. وهم بعدوته؛ أي: جانبه البعيدة من المدينة؛ فقد جمعكم وادٍ واحدٌ. {والركب}: الذي خرجتُم لطلبه، وأراد الله غيره {أسفلَ منكم}: مما يلي ساحل البحر. {ولو تواعدتُم}: أنتم وإيَّاهم على هذا الوصف وبهذه الحال، {لاختلفتُم في الميعادِ}؛ أي: لا بدَّ من تقدُّم أو تأخُّر أو اختيار منزل أو غير ذلك مما يعرض لكم أو لهم يصدُفُكم عن ميعادهم. ولكنَّ: اللهَ جمعكم على هذه الحال، {لِيَقْضِيَ الله أمرا كان مفعولا}؛ أي: مقدراً في الأزل لا بدَّ من وقوعه. {لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عن بيِّنة}؛ أي: ليكون حجَّة وبيَّنة للمعاند، فيختار الكفر على بصيرة وجزم ببطلانه، فلا يبقى له عذرٌ عند الله. {ويحيا مَنْ حَيَّ عن بيِّنةٍ}؛ أي: يزداد المؤمن بصيرةً ويقيناً بما أرى الله الطائفتين من أدلَّة الحقِّ وبراهينه ما هو تذكرة لأولي الألباب. {وإن الله لسميعٌ عليمٌ}: سميعٌ لجميع الأصوات باختلاف اللُّغات على تفنُّن الحاجات، عليمٌ بالظواهر والضمائر والسرائر والغيب والشهادة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔