ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 26

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ؕ٪۲۶﴾
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔ En
جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے
En
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 یا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہوسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اس واقعہ میں سامان عبرت [18] ہے اس شخص کے لیے جو (اللہ کی گرفت سے) ڈرتا ہے
[18] یعنی جس طرح فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ وہی کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا انجام دیکھ لو۔ اور اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ تمہیں بھی کہیں ایسے ہی انجام سے دو چار نہ ہونا پڑے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّ٘مَنْ یَّخْشٰى بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ في ذلك لَعبرةً لمَن يَخْشى}: فإنَّ مَنْ يخشى الله هو الذي ينتفع بالآيات والعبر؛ فإذا رأى عقوبة فرعون؛ عرف أنَّ [كلَّ] من تكبَّر وعصى وبارز الملك الأعلى؛ يعاقِبه في الدُّنيا والآخرة، وأمَّا مَن ترحَّلت خشيةُ الله من قلبه؛ فلو جاءته كلُّ آيةٍ؛ لم يؤمنْ بها.