ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 27

ءَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمِ السَّمَآءُ ؕ بَنٰہَا ﴿ٝ۲۷﴾
کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔ En
بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا
En
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27تا29) {ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا …:} شروع سورت میں قیامت حق ہونے کی دلیل کے طور پر فرشتوں کا اور ان چند امور کا ذکر فرمایا جو وہ سرانجام دیتے ہیں، یعنی ان فرشتوں کے رب کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ یہاں سے پھر قیامت کے دلائل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت (۲۷) سے (۳۳) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی عظیم الشان مخلوقات کا ذکر فرمایا کہ اتنی قدرتوں والے پروردگار کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنے میں کیا دشواری ہو سکتی ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود تنبیہ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا آسمان بنانے سے زیادہ مشکل ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ کیا تمہیں پیدا کرنا مشکل کام ہے یا آسمان کو؟ جسے اس نے [19] بنایا
[19] مختصر طور پر قصہ فرعون بیان کرنے کے بعد اب پھر اصل مضمون یعنی عقیدہ آخرت کی طرف رجوع کرتے ہوئے کافروں سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اس کائنات کو وجود میں لانا زیادہ مشکل کام ہے یا تمہیں پہلی بار یا دوسری بار پیدا کرنا؟ یہاں لفظ سماء استعمال ہوا ہے جس سے مراد آسمان بھی ہو سکتا ہے اور تمام عالم بالا بھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موت و حیات کی سرگزشت ٭٭
جو لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کے منکر تھے، انہیں پروردگار دلیلیں دیتا ہے کہ ’ تمہاری پیدائش سے تو بہت زیادہ مشکل پیدائش آسمانوں کی ہے ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ ‏‏‏‏ [40-غافر:57]‏‏‏‏ یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔
اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ‏‏‏‏۱؎ [36-يس:81]‏‏‏‏ ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔
آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔
سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا وہ ہلنے لگی پروردگار نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین پر گاڑ دیا جس سے وہ ٹھہر گئی فرشتوں کو اس سے سخت تر تعجب ہوا اور پوچھنے لگے: اے اللہ! تیری مخلوق میں ان پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت چیز کوئی اور ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں لوہا، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: آگ، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہاں پانی، پوچھا: اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا: ہوا۔ پوچھا: پروردگار کیا تیری مخلوق میں اس سے بھاری کوئی اور چیز ہے؟ فرمایا: ہاں ابن آدم وہ یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے جو خرچ کرتا ہے اس کی خبر پائیں ہاتھ کو بھی نہیں ہوتی } ۱؎ [مسند احمد:124/3:ضعیف]‏‏‏‏
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آخرت کو اور اجساد کو دوبارہ زندہ کرنے کو بعید سمجھنے والوں کے لیے واضح دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ ءَاَنْتُمْ اے انسانو! کیا تمھارا ﴿ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بنانا زیادہ شدید ہے یا آسمان کا؟ جو بڑے بڑے اجرام، طاقت ور مخلوق اور انتہائی بلندیوں والا ہے ﴿ بَنٰىهَا اسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ﴿ رَفَ٘عَ سَمْؔكَهَا یعنی اس کی چھت اور صورت کو بلند کیا۔ ﴿ فَسَوّٰىهَا پھر اسے برابر کردیا۔ یعنی اس کو محکم اور مضبوط بنا کر جو عقل کو حیران اور خرد کو گم کر دیتا ہے۔ ﴿ وَاَغْ٘طَشَ لَیْلَهَا یعنی اللہ تعالیٰ رات کو تاریک کرتا ہےتو یہ تاریکی آسمان کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہے اور روئے زمین کو تاریک کر دیتی ہے ﴿ وَاَخْرَجَ ضُحٰؔىهَا یعنی جب اللہ تعالیٰ سورج کو لے کر آتا ہے تو روئے زمین پر عظیم روشنی ظاہر کرتا ہے تو لوگ اپنے دینی اور دنیاوی کاموں کے لیے پھیل جاتے ہیں۔ ﴿ وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ یعنی آسمان کی تخلیق کے بعد زمین کو ﴿ دَحٰؔىهَا اس نے بچھا دیا۔ یعنی اس کے اندر اس کی منفعتیں ودیعت کر دیں۔
پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر بیان کی ﴿ اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعٰىهَا۪۰۰وَالْجِبَالَ اَرْسٰؔىهَا اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ یعنی پہاڑ زمین پر مضبوطی سے جمائے، آسمانوں کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کیا جیسا کہ ان آیات کریمہ میں منصوص ہے اور رہی خود زمین کی تخلیق تو یہ آسمان کی تخلیق سے متقدم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُ٘لْ اَىِٕنَّـكُمْ لَتَكْ٘فُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ۰۰وَجَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَبٰ٘رَكَ فِیْهَا وَقَدَّرَ فِیْهَاۤ اَ٘قْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِیْ٘نَ۰۰ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآىِٕعِیْنَ۰۰فَ٘قَ٘ضٰ٘ىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ (حم السجدۃ:32؍9-12) کہہ دیجیے، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم ہو کہ اس کے ہم سر بناتے ہو، وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین کے اوپر پہاڑ رکھ دیے اور اس کے اندر برکت رکھ دی اور چار دن میں اس کے اندر اس کی غذاؤ ں کو مقدر کر دیا، تمام طلب گاروں کے لیے یکساں طور پر، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان سے اور زمین سے کہا، دونوں آؤ، خوش دلی کے ساتھ یا بادل نخواستہ، انھوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں، پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیے۔
پس جس نے بڑے بڑے آسمان، ان کی روشنیاں، اجرام فلکی، گرد بھری اور کثیف زمین، اس کے اندر مخلوق کی ضروریات اور ان کی منفعتیں ودیعت کر دیں، وہ ضرور مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ پس جس نے نیکی کی اس کے لیے بھلائی ہے اور جس نے برائی کی وہ صرف اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى مبيناً دليلاً واضحاً لمنكري البعث ومستبعدي إعادة الله للأجساد: {أأنتُم}: أيُّها البشر، {أشدُّ خلقاً أم السماءُ}: ذات الجرم العظيم والخلق القويِّ والارتفاع الباهر، {بناها}: الله، {رفَعَ سَمْكَها}؛ أي: جرمها وصورتها. {فسوَّاها}: بإحكام وإتقانٍ يحيِّر العقول ويذهل الألباب، {وأغطشَ ليلَها}؛ أي: أظلمه، فعمَّت الظُّلمة جميع أرجاء السماء، فأظلم وجه الأرض، {وأخرج ضُحاها}؛ أي: أظهر فيه النُّور العظيم حين أتى بالشمس، فانتشر الناس في مصالح دينهم ودُنْياهم، {والأرضَ بعد ذلك}؛ أي: بعد خلق السماء {دحاها}؛ أي: أودع فيها منافعها، وفسر ذلك بقوله: {أخرج منها ماءها ومرعاها. والجبال أرساها}؛ أي: ثبَّتها بالأرض ، فدحى الأرض بعد خَلْق السماواتِ؛ كما هو نصُّ هذه الآيات الكريمة، وأمَّا خلق نفس الأرض؛ فمتقدِّم على خلق السماء؛ كما قال تعالى: {قل أإنَّكم لتكفرونَ بالذي خلق الأرضَ في يومين وتجعلون له أنداداً ذلك ربُّ العالمين ... } إلى أن قال: {ثمَّ استوى إلى السَّماء وهي دخان فقال لها وللأرض ائتيا طوعاً أو كرها قالتا أتينا طائعين. فقضاهنَّ سبع سمواتٍ ... }: فالذي خلق السماواتِ العظام وما فيها من الأنوار والأجرام والأرض الغبراء الكثيفة ، وما فيها من ضروريَّات الخلق ومنافعهم لا بدَّ أن يبعث الخلق المكلَّفين فيجازيهم بأعمالهم ؛ فمن أحسن؛ فله الحسنى، وَمن أساء؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.