تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ زمین و آسمان کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے زیادہ بھاری ہے ‘۔
اور جگہ ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [36-يس:81] ’ کیا جس نے زمین و آسمان پیدا کر دیا ہے ان جیسے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ ضرور وہ قادر ہے اور وہ ہی بڑا پیدا کرنے والا اور خوب جاننے والا ہے ‘۔
آسمانوں کو اس نے بنایا یعنی بلند و بالا خوب چوڑا اور کشادہ اور بالکل برابر بنایا پھر اندھیری راتوں میں خوب چمکنے والے ستارے اس میں جڑ دیئے، رات کو سیاہ اور اندھیرے والی بنایا اور دن کو روشن اور نور والا بنایا اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا یعنی پانی اور چارہ نکالا۔
سورۃ حم سجدہ میں یہ بیان گزر چکا ہے کہ زمین کی پیدائش تو آسمان سے پہلے ہے ہاں اس کی برکات کا اظہار آسمانوں کی پیدائش کے بعد ہوا جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں، اس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے اور پہاڑوں کو اس نے خوب مضبوط گاڑ دیا ہے وہ حکمتوں والا صحیح علم والا ہے اور ساتھ ہی اپنی مخلوق پر بے حد مہربان ہے۔
ابن جریر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تو وہ کانپنے لگی اور کہنے لگی مجھ پر تو آدم اور اس کی اولاد کو پیدا کرنے والا ہے جو اپنی گندگی مجھ پر ڈالیں گے اور میری پیٹھ پر تیری نافرمانیاں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ گاڑ کر زمین کو ٹھہرا دیا بہت سے پہاڑ تم دیکھ رہے ہو اور بہت سے تمہاری نگاہوں سے اوجھل ہیں، زمین کا پہاڑوں کے بعد سکون حاصل کرنا بالکل ایسا ہی تھا جیسے اونٹ کو ذبح کرتے ہی اس کا گوشت تھرکتا رہتا ہے پھر کچھ دیر بعد ٹھہر جاتا ہے۔“
پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لیے ہے ‘، یعنی زمین سے چشموں اور نہروں کا جاری کرنا، زمین کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنا، کھیتیاں اور درخت اگانا، پہاڑوں کا گاڑنا تاکہ زمین سے پورا پورا فائدہ تم اٹھا سکو، یہ سب باتیں انسانوں کے فائدے کیلئے ہیں اور ان کے جانوروں کے فائدے کے لیے پھر وہ جانور بھی انہی کے فائدے کے لیے ہیں کہ بعض کا گوشت کھاتے ہیں بعض پر سواریاں لیتے ہیں اور اپنی عمر اس دنیا میں سکھ چین سے بسر کر رہے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مبيناً دليلاً واضحاً لمنكري البعث ومستبعدي إعادة الله للأجساد: {أأنتُم}: أيُّها البشر، {أشدُّ خلقاً أم السماءُ}: ذات الجرم العظيم والخلق القويِّ والارتفاع الباهر، {بناها}: الله، {رفَعَ سَمْكَها}؛ أي: جرمها وصورتها. {فسوَّاها}: بإحكام وإتقانٍ يحيِّر العقول ويذهل الألباب، {وأغطشَ ليلَها}؛ أي: أظلمه، فعمَّت الظُّلمة جميع أرجاء السماء، فأظلم وجه الأرض، {وأخرج ضُحاها}؛ أي: أظهر فيه النُّور العظيم حين أتى بالشمس، فانتشر الناس في مصالح دينهم ودُنْياهم، {والأرضَ بعد ذلك}؛ أي: بعد خلق السماء {دحاها}؛ أي: أودع فيها منافعها، وفسر ذلك بقوله: {أخرج منها ماءها ومرعاها. والجبال أرساها}؛ أي: ثبَّتها بالأرض ، فدحى الأرض بعد خَلْق السماواتِ؛ كما هو نصُّ هذه الآيات الكريمة، وأمَّا خلق نفس الأرض؛ فمتقدِّم على خلق السماء؛ كما قال تعالى: {قل أإنَّكم لتكفرونَ بالذي خلق الأرضَ في يومين وتجعلون له أنداداً ذلك ربُّ العالمين ... } إلى أن قال: {ثمَّ استوى إلى السَّماء وهي دخان فقال لها وللأرض ائتيا طوعاً أو كرها قالتا أتينا طائعين. فقضاهنَّ سبع سمواتٍ ... }: فالذي خلق السماواتِ العظام وما فيها من الأنوار والأجرام والأرض الغبراء الكثيفة ، وما فيها من ضروريَّات الخلق ومنافعهم لا بدَّ أن يبعث الخلق المكلَّفين فيجازيهم بأعمالهم ؛ فمن أحسن؛ فله الحسنى، وَمن أساء؛ فلا يلومنَّ إلاَّ نفسه.