تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النازعات (79) — آیت 26

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَعِبۡرَۃً لِّمَنۡ یَّخۡشٰی ﴿ؕ٪۲۶﴾
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا بڑی عبرت ہے جو ڈرتا ہے۔ En
جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے
En
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّ٘مَنْ یَّخْشٰى بے شک اسی میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔ کیونکہ جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے وہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے مستفید ہوتا ہے، پس جب وہ فرعون کی سزا میں غور کرے گا تو اسے اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے گی کہ جو کوئی تکبر اور نافرمانی کرتا ہے اور مالک اعلیٰ کا مقابلہ کرتا ہے، اسے دنیا و آخرت میں سزا ملتی ہے۔ جس کسی دل سے خشیت الٰہی رخصت ہو جاتی ہے تو اس کے پاس چاہے ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ ایمان نہیں لاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ في ذلك لَعبرةً لمَن يَخْشى}: فإنَّ مَنْ يخشى الله هو الذي ينتفع بالآيات والعبر؛ فإذا رأى عقوبة فرعون؛ عرف أنَّ [كلَّ] من تكبَّر وعصى وبارز الملك الأعلى؛ يعاقِبه في الدُّنيا والآخرة، وأمَّا مَن ترحَّلت خشيةُ الله من قلبه؛ فلو جاءته كلُّ آيةٍ؛ لم يؤمنْ بها.