(آیت 27){ اِنَّهٰۤؤُلَآءِيُحِبُّوْنَالْعَاجِلَةَ …:} اس آیت میں کفار و فجار کے کفر و فسوق کا اصل سبب بیان فرمایا کہ ان کے نصیحت قبول نہ کرنے کا سبب حبِ دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے، اس لیے یہ اسی کو چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غافل ہیں، بلکہ اس کے آنے کا یقین ہی نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ جب مرنے کے بعد گل سڑ گئے تو کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ آگے اس کا جواب ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔ 27۔ 2 یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ یہ لوگ تو بس دنیا سے ہی محبت رکھتے ہیں اور ان کے آگے جو بھاری [30] دن آنے والا ہے اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔
[30] یہ لوگ آخرت کے اس لیے منکر نہیں کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی، بلکہ اس لیے منکر ہیں کہ یہ صرف نقد کے گاہک ہیں۔ دنیا کی دلفریبیوں، دلکشیوں اور اس کے مال و دولت سے انہیں گہری محبت ہے۔ اور اسے اپنے پاس سمیٹ سمیٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ آخرت پر ایمان لانے کی صورت میں مال اکٹھا کرنے کی بجائے انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر اخروی زندگی پر ان کا کچھ یقین بھی نہیں۔ لہٰذا یہ اپنا فائدہ اسی میں دیکھتے ہیں کہ آخرت کا انکار کر دیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ یُحِبُّوْنَالْعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَیَذَرُوْنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمْ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ یَوْمًاثَقِیْلًا ﴾”بھاری دن“ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ یَقُوْلُالْ٘كٰفِرُوْنَهٰؔذَایَوْمٌعَسِرٌ ﴾ (القمر:54؍8) ”کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔“ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنَّ هؤلاء}؛ أي: المكَذِّبين لك أيها الرسول بعدما بُيِّنَتْ لهم الآيات ورُغِّبوا ورُهِّبوا، ومع ذلك لم يُفِدْ فيهم ذلك شيئاً، بل لا يزالون يُؤْثرون {العاجلةَ}: ويطمئنُّون إليها، {ويذرونَ}؛ أي: يتركون العمل ويهملون {وراءهم}؛ أي: أمامهم {يوماً ثقيلاً}: وهو يوم القيامةِ، الذي مقداره خمسون ألفَ سنةٍ ممَّا تعدُّون، وقال تعالى: {يقولُ الكافرون هذا يومٌ عَسِرٌ}؛ فكأنَّهم ما خُلِقوا إلاَّ للدُّنيا والإقامة فيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔