ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 28

نَحۡنُ خَلَقۡنٰہُمۡ وَ شَدَدۡنَاۤ اَسۡرَہُمۡ ۚ وَ اِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَہُمۡ تَبۡدِیۡلًا ﴿۲۸﴾
ہم نے ہی انھیں پیدا کیا اور ہم نے ان ( کے اعضا ) کا بندھن مضبوط باندھا اور ہم جب چاہیں گے بدل کر ان جیسے اور لوگ لے آئیں گے، بدل کر لانا۔ En
ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے مقابل کو مضبوط بنایا۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کے بدلے ان ہی کی طرح اور لوگ لے آئیں
En
ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بندھن مضبوط کیے اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل ﻻئیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28){ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ …: اَسْرَهُمْ أَسْرٌ} کا معنی باندھنا ہے، اسیر بھی اسی سے نکلاہے، یعنی ہم نے ان کے اعضا کا بندھن مضبوطی سے باندھا ہے، ہڈیوں اور پٹھوں کے جوڑ نہایت مضبوط بنائے ہیں، یعنی یہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں، لیکن اتنا نہیں سوچتے کہ ہم نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، ان کے نرم و نازک رگ و ریشے، گوشت پوست، جوڑوں اور ہڈیوں کو مضبوطی سے باندھ دیا تو ہم دوبارہ انھیں کیوں زندہ نہیں کرسکتے؟ ہم تو جب چاہیں انھیں ختم کرکے ان کی جگہ ان جیسے اور لوگ لا سکتے ہیں، تو ان کا بنانا ہمیں کیا مشکل ہے؟ دوسری جگہ فرمایا: «اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّهَا النَّاسُ وَ يَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِيْرًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۳۳] اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور دوسرے لوگوں کو لے آئے اور اللہ اس پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ ابراہیم (20،19)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں کو اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، بلفظ دیگر، ان کا مانجھا کڑا کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ ہم نے ہی انہیں پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے اور جب ہم چاہیں ایسے ہی اور لوگ [31] (ان کی جگہ) لے آئیں۔
[31] ہم نے رحم مادر سے ایک خورد بینی کیڑے کی نشو و نما کر کے انہیں اس طرح پیدا کیا کہ ان کا بند بند اور پور پور درست کر کے انہیں ایک صاحب عقل و شعور انسان بنا کر پیدا کر دیا تھا تو ہم میں یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں پرے ہٹا کر دوسری مخلوق تمہاری جگہ لے آئیں جو تمہاری طرح نافرمان اور سرکش نہ ہو۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں اس صفحہ ہستی سے مٹا کر دوبارہ تمہیں پیدا کر کے تمہارا پوری طرح محاسبہ کریں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالی ٰنے ان پر اور ان کی موت کے بعد دوبارہ زندگی پر، عقلی دلیل سے استدلال کیا ہے اور یہ ابتدائے تخلیق کی دلیل ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ یعنی ہم ان کو عدم سے وجود میں لائے۔ ﴿ وَشَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ یعنی ہم نے ان کی تخلیق کو اعصاب، رگوں، پٹھوں، ظاہری اور باطنی قویٰ کے ذریعے سے محکم کیا، یہاں تک کہ جسم تکمیل کی منزل پر پہنچ گیا اور ہر اس فعل پر قادر ہو گیا جو وہ چاہتا تھا۔ پس وہ ہستی جو انھیں اس حالت پر وجود میں لائی ہے، وہ ان کے مرنے کے بعد ان کو جزا و سزا دینے کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ ہستی جس نے اس دنیا میں ان کو ان مراحل میں سے گزارا ہے، اس کی شان کے لائق نہیں کہ وہ ان کو بے کار چھوڑ دے، ان کو حکم دیا جائے نہ ان کو روکا جائے، ان کو ثواب عطا کیا جائے نہ عذاب دیا جائے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا ان کے بدلے انھی کی طرح کے اور لوگ لے آئیں۔ یعنی ہم نے انھیں روز قیامت دوبارہ اٹھنے کے لیے تخلیق کیا ہے، ہم نے ان کے اعیان، ان کے نفوس اور ان کی امثال کا اعادہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم استدلَّ عليهم وعلى بعثهم بدليل عقليٍّ، وهو دليلُ الابتداء، فقال: {نحن خَلَقْناهم}؛ أي: أوجدناهم من العدم، {وشَدَدْنا أسْرَهم}؛ أي: أحكمنا خِلْقَتَهم بالأعصاب والعروق والأوتار والقُوى الظاهرة والباطنة، حتى تمَّ الجسم واستكمل وتمكَّن من كلِّ ما يريده؛ فالذي أوجدهم على هذه الحالة قادرٌ على أن يعيدَهم بعد موتهم لجزائهم، والذي نقَّلهم في هذه الدار إلى هذه الأطوار لا يَليقُ به أن يَتْرُكَهم سدىً، لا يُؤْمَرون، ولا يُنْهَوْن، ولا يُثابون، ولا يُعاقبون، ولهذا قال: {وإذا شِئْنا بَدَّلْنا أمثالَهم تَبْديلاً}؛ أي: أنشأناكم للبعث نشأةً أخرى، وأعدْناكم بأعيانكم، وهم بأنفسهم أمثالهم.