اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2 6 ۔ 1 رات کو سجدہ کر سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں اور تسبیح کا مطلب جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں ان سے اس کی پاکیزگی بیان کر، بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نمازیں یعنی تہجد ہے امر ندب واستحباب کے لیے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ اور رات کو بھی اس کے حضور سجدہ کیجیے اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کیجیے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمِنَالَّیْلِفَاسْجُدْلَهٗ ﴾”اور رات کو سجدے کرو۔“ یعنی اس کے حضور کثرت سے سجدے کیجیے اور یہ چیز کثرت نماز کو متضمن ہے۔ ﴿ وَسَبِّحْهُلَیْلًاطَوِیْلًا﴾”اور طویل رات تک اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔“ اس مطلق کی تقیید اس ارشاد کے ذریعے سے گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے ﴿ یٰۤاَیُّهَاالْ٘مُزَّمِّلُۙ۰۰قُمِالَّیْلَاِلَّاقَلِیْلًاۙ۰۰نِّصْفَهٗۤاَوِانْقُ٘صْمِنْهُقَلِیْلًاۙ۰۰اَوْزِدْعَلَیْهِوَرَتِّلِالْ٘قُ٘رْاٰنَتَرْتِیْلًا﴾ (المزمل:73؍1-4) ”اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات کو تھوڑا سا قیام کیا کیجیے، قیام نصف شب یا اس سے بھی کچھ کم، یا اس سے کچھ زیادہ۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومن الليل فاسْجُدْ له}؛ أي: أكثر له من السُّجود، وذلك متضمِّن لكثرة الصلاة ، {وسبِّحْه ليلاً طويلاً}: وقد تقدَّم تقييد هذا المطلق بقوله: {يا أيُّها المزَّمِّلُ. قم الليلَ إلاَّ قليلاً. نِصْفَهُ أو انقُصْ منه قليلاً. أو زِدْ عليه ... }.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔