تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّهٰۤؤُلَآءِ ﴾ اے رسول! آپ کو جھٹلانے والے یہ لوگ، اس کے بعد کہ ان کے سامنے کھول کھول کر آیات بیان کی گئیں، ان کو ترغیب دی گئی، ان کو ڈرایا گیا، اس کے باوجود، اس نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ ہمیشہ ترجیح دیتے رہے﴿ یُحِبُّوْنَالْعَاجِلَةَ ﴾ دنیا ہی کو اور اسی پر مطمئن رہے ﴿ وَیَذَرُوْنَ ﴾ یعنی وہ عمل چھوڑ دیتے ہیں اور مہمل بن جاتے ہیں ﴿ وَرَآءَؔهُمْ ﴾ یعنی اپنے آگے ﴿ یَوْمًاثَقِیْلًا ﴾”بھاری دن“ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس کی مقدار تمھارے حساب کے مطابق پچاس ہزار برس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ یَقُوْلُالْ٘كٰفِرُوْنَهٰؔذَایَوْمٌعَسِرٌ ﴾ (القمر:54؍8) ”کافر کہیں گے کہ یہ بہت ہی مشکل دن ہے۔“ گویا کہ وہ صرف دنیا اور دنیا کے اندر قیام کرنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {إنَّ هؤلاء}؛ أي: المكَذِّبين لك أيها الرسول بعدما بُيِّنَتْ لهم الآيات ورُغِّبوا ورُهِّبوا، ومع ذلك لم يُفِدْ فيهم ذلك شيئاً، بل لا يزالون يُؤْثرون {العاجلةَ}: ويطمئنُّون إليها، {ويذرونَ}؛ أي: يتركون العمل ويهملون {وراءهم}؛ أي: أمامهم {يوماً ثقيلاً}: وهو يوم القيامةِ، الذي مقداره خمسون ألفَ سنةٍ ممَّا تعدُّون، وقال تعالى: {يقولُ الكافرون هذا يومٌ عَسِرٌ}؛ فكأنَّهم ما خُلِقوا إلاَّ للدُّنيا والإقامة فيها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔