تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى ……:} بارش کے ساتھ مردہ زمین کی زندگی کو آخرت میں مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے، یعنی جس ذات پاک نے مردہ زمین کو دم بھر میں زندہ کر دیا وہ انسانوں کو بھی ان کے مر جانے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ اس سے اﷲ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اﷲ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل فرمائے گا جس سے لوگوں کے جسم اس طرح (زمین سے) اگ پڑیں گے جس طرح سبزی اگتی ہے۔“ [مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب ما بین النفختین: ۲۹۵۵، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔
پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔
جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» ۱؎ [42-الشورى:28] ’ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ‘
ایک اور آیت میں ہے: ’ رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:50]
بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔
قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔
پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔
اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» ۱؎ [3-آل عمران:37] اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
بين تعالى أثراً من آثار قدرته ونفحة من نفحات رحمته، فقال: {وهو الذي يرسل الرياح بشراً بين يدي رحمته}؛ أي: الرياح المبشرات بالغيث، التي تثيره بإذن الله من الأرض، فيستبشر الخلق برحمة الله، وترتاح لها قلوبهم قبل نزوله. {حتى إذا أقلَّت}: الرياح {سحاباً ثقالاً}: قد أثاره بعضها، وألفه ريحٌ أخرى وألقحه ريح أخرى، {سُقْناه لبلدٍ ميِّتٍ}: قد كادت تهلك حيواناتُهُ وكاد أهله أن ييأسوا من رحمة الله. {فأنزلنا به}؛ أي: بذلك البلد الميت {الماء}: الغزير من ذلك السحاب، وسخَّر الله له ريحاً تدره وريحاً تفرِّقه بإذن الله. فأنبتنا به من كلِّ الثمرات: فأصبحوا مستبشرين برحمة الله، راتعين بخير الله. وقوله: {كذلك نخرِجُ الموتى لعلَّكم تَذَكَّرون}؛ أي: كما أحيينا الأرض بعد موتها بالنبات كذلك نخرج الموتى من قبورهم بعدما كانوا رفاتاً متمزِّقين. وهذا استدلال واضح؛ فإنه لا فرق بين الأمرين؛ فمنكِرُ البعثِ استبعاداً له مع أنه يرى ما هو نظيره من باب العناد وإنكار المحسوسات. وفي هذا الحثُّ على التذكُّر والتفكُّر في آلاء الله والنظر إليها بعين الاعتبار والاستدلال لا بعين الغفلة والإهمال.