ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 56

وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلائو اور اسے خوف اور طمع سے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔ En
اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے
En
اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی ہے، فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 55 میں تا آیت 57 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56۔ 1 ان آیات میں چار چیزوں کی تلقین کی گئی ہے 1۔ اللہ تعالیٰ سے آہ زاری اور خفیہ طریقے سے دعا کی جائے، جس طرح کہ حدیث میں آتا ہے ' لوگو! اپنے نفس کے ساتھ نرمی کرو (یعنی آواز پست رکھو) تم جس کو پکار رہے ہو، وہ بہرا نہ غائب، وہ تمہاری دعائیں سننے والا اور قریب ہے (صحیح بخاری) 2۔ دعا میں زیادتی نہ کی جائے یعنی اپنی حیثیت اور مرتبے سے بڑھ کر دعا نہ کی جائے۔ 3۔ اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلایا جائے یعنی اللہ کی نافرمانیاں کر کے فساد پھیلانے میں حصہ نہ لیا جائے۔ 4۔ اس کے عذاب کا ڈر بھی دل میں ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی ہو۔ اس طریقے سے دعا کرنے والے محسنین ہیں۔ یقینا اللہ کی رحمت ان کے قریب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اور زمین میں (حالات کی) درستی کے بعد [59] ان میں بگاڑ پیدا نہ کرو۔ اور اللہ کو خوف اور امید [60] سے پکارو۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے
[59] فساد فی الارض کیا ہے؟
فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ کی بندگی چھوڑ کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی اطاعت شروع کر دے اور اللہ کی بتلائی ہوئی راہ ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور تمدن کی عمارت کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرے جو کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور ایسے پیچیدہ مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جن کے حل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور اگر کوئی حل سوچا بھی جائے تو مسائل سلجھنے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء زمین میں اصلاح ہی اصلاح تھی کیونکہ پہلے بشر آدم خود نبی تھے بعد میں شیطانی عناصر نے اس اصلاح میں بگاڑ کی صورتیں پیدا کیں تو اللہ تعالیٰ انبیاء بھیج کر اس بگاڑ کو ختم کرتا رہا۔ جبکہ انسانی تمدن کی داستان لکھنے والے یہ نظریہ قائم کرتے ہیں کہ انسان ظلمت سے نکل کر بتدریج روشنی میں آیا ہے اور اس کی زندگی بگاڑ سے شروع ہوئی جو بتدریج سنور رہی ہے قرآن اس نظریہ کی پر زور تردید کرتا ہے۔
معاشرے کی اصلاح کا آغاز توحید ہی سے ہو سکتا ہے:۔
یعنی بگاڑ کو درست کرنے کی واحد صورت یہ ہے کہ اس کی ابتدا توحید سے کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء جو دنیا میں آئے عموماً ان حالات میں آئے کہ معاشرے میں طرح طرح کا بگاڑ پیدا ہو چکا تھا، تو انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز توحید ہی سے کیا کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسرے کی بندگی سے اجتناب کو شرط اول قرار دیا یہ اصول اپنانے کے بعد معاشرہ سے برائیاں خود بخود رخصت ہوتی چلی جاتی ہیں۔
[60] خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ جاؤں۔ دونوں پہلوؤں کو بہرحال ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ سے حسن ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا ”تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔“ [مسلم۔ كتاب الجنة وصفة نعيمها باب الامر بحسن ظن بالله تعاليٰ]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انسان دعا مانگے قبول ہو گی ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو۔
جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:205]‏‏‏‏ ’ اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ ‘
بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔
یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔
امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔
ابومجاز رحمہ اللہ کہتے ہیں: مثلاً اپنے لیے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔
{ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ]‏‏‏‏
ایک سند سے مروی ہے کہ { وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابوداؤد)
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے: { ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں کہہ رہے تھے کہ یااللہ! جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:96، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:156]‏‏‏‏ ’ یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ ‘
چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ ﴿بَعْدَ اِصْلَاحِهَا اس کی اصلاح کے بعد یعنی اطاعت اور نیکی کے ذریعے سے اس کی اصلاح کر لینے کے بعد۔ کیونکہ معاصی، اخلاق، اعمال اور رزق کو فاسد کر دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْـبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (الروم: 30؍41) لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔ جیسے نیکیوں سے اخلاق، اعمال، رزق اور دنیا و آخرت کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔
﴿وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اور اس (اللہ) سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہو۔ اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پکارو۔ نیز یہ امید بھی رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرمائے گا اور اس بات سے بھی ڈرو کہ کہیں اللہ تعالیٰ دعا کو رد نہ کر دے۔ اس بندے کی طرح دعا نہ مانگو جو ناز و ادا کے ذریعے سے اپنے رب کے سامنے جرأت اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ جو خود پسندی کا شکار ہے اور جس نے اپنے نفس کو اس کی اصل حیثیت سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور نہ اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غافل دل کے ساتھ دعا مانگتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آداب دعا کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دعا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو اور دعائے خفی اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو متضمن ہے۔ دعا کا چھپانا اور اس کا اخفاء یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ سے خائف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت کی امید رکھتا ہو، غافل دل کے ساتھ دعا نہ کرے، اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے اور نہ قبولیت دعا کے بارے میں بے پروائی کا اظہار کرے اور یہ چیز دعا میں احسان کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اس عبادت میں اپنی پوری جدوجہد صرف کر دے، اسے نہایت کامل طریقے سے ادا کرے اور کسی طور بھی اس میں نقص واقع نہ ہونے دے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَ٘رِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر پہنچنے والے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے والے لوگ۔ پس بندہ جتنا زیادہ احسان کے مقام پر فائز ہوگا اتنی ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے قریب ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں احسان کی ترغیب ہے، جو مخفی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولا تفسدوا في الأرض}: بعمل المعاصي {بعد إصلاحها}: بالطاعات؛ فإن المعاصي تفسد الأخلاق والأعمال والأرزاق؛ كما قال تعالى: {ظهر الفسادُ في البرِّ والبحر بما كسبتْ أيدي الناس}: كما أنَّ الطاعات تصلُحُ بها الأخلاق والأعمال والأرزاق وأحوال الدُّنيا والآخرة. {وادعوه خوفاً وطمعاً}؛ أي: خوفاً من عقابه، وطمعاً في ثوابه، طمعاً في قبولها وخوفاً من ردِّها، لا دعاء عبد مدلٍّ على ربه، قد أعجبته نفسه، ونزَّل نفسه فوق منزلته، أو دعاء من هو غافل لاهٍ.

وحاصل ما ذكر الله من آداب الدعاء: الإخلاصُ فيه لله وحده؛ لأنَّ ذلك يتضمَّنه الخفية، وإخفاءه وإسراره، وأن يكون القلبُ خائفاً طامعاً لا غافلاً ولا آمناً ولا غير مبالٍ بالإجابة، وهذا من إحسان الدعاء؛ فإن الإحسان في كل عبادة بَذْلُ الجهد فيها وأداؤها كاملةً لا نقصَ فيها بوجه من الوجوه. ولهذا قال: {إنَّ رحمةَ الله قريبٌ من المحسنين}: في عبادة الله، المحسنين إلى عباد الله، فكلَّما كان العبد أكثر إحساناً؛ كان أقرب إلى رحمة ربِّه، وكان ربُّه قريباً منه برحمته. وفي هذا من الحثِّ على الإحسان ما لا يخفى.