تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[60] خوف اور طمع سے پکارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام امیدیں اللہ سے وابستہ رکھے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو اور ڈرنا اس بات سے چاہیے کہ کسی غلطی یا تقصیر کی وجہ سے کہیں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہی نہ جاؤں۔ دونوں پہلوؤں کو بہرحال ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تاہم اللہ سے حسن ظن کا پہلو غالب رہنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے تین دن پہلے فرمایا ”تم میں سے ہر شخص کو مرتے وقت اللہ سے حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔“ [مسلم۔ كتاب الجنة وصفة نعيمها باب الامر بحسن ظن بالله تعاليٰ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» ۱؎ [7-الأعراف:205] ’ اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ ‘
بخاری و مسلم میں { سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔“
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔
یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔
امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔“
{ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ]
ایک سند سے مروی ہے کہ { وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] (ابوداؤد)
پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔
جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:156] ’ یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ ‘
چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا تفسدوا في الأرض}: بعمل المعاصي {بعد إصلاحها}: بالطاعات؛ فإن المعاصي تفسد الأخلاق والأعمال والأرزاق؛ كما قال تعالى: {ظهر الفسادُ في البرِّ والبحر بما كسبتْ أيدي الناس}: كما أنَّ الطاعات تصلُحُ بها الأخلاق والأعمال والأرزاق وأحوال الدُّنيا والآخرة. {وادعوه خوفاً وطمعاً}؛ أي: خوفاً من عقابه، وطمعاً في ثوابه، طمعاً في قبولها وخوفاً من ردِّها، لا دعاء عبد مدلٍّ على ربه، قد أعجبته نفسه، ونزَّل نفسه فوق منزلته، أو دعاء من هو غافل لاهٍ.
وحاصل ما ذكر الله من آداب الدعاء: الإخلاصُ فيه لله وحده؛ لأنَّ ذلك يتضمَّنه الخفية، وإخفاءه وإسراره، وأن يكون القلبُ خائفاً طامعاً لا غافلاً ولا آمناً ولا غير مبالٍ بالإجابة، وهذا من إحسان الدعاء؛ فإن الإحسان في كل عبادة بَذْلُ الجهد فيها وأداؤها كاملةً لا نقصَ فيها بوجه من الوجوه. ولهذا قال: {إنَّ رحمةَ الله قريبٌ من المحسنين}: في عبادة الله، المحسنين إلى عباد الله، فكلَّما كان العبد أكثر إحساناً؛ كان أقرب إلى رحمة ربِّه، وكان ربُّه قريباً منه برحمته. وفي هذا من الحثِّ على الإحسان ما لا يخفى.