تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ:} اﷲ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں بارش کے ساتھ زمین کو زندہ کرنے کی مثال مردوں کو زندہ کرنے کے لیے بیان فرمائی، اس سے مقصود نصیحت حاصل کرنا ہے، اس لیے وہاں {” لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ “} فرمایا۔ اس آیت کا موضوع وحی الٰہی کا علم، اس پر عمل اور دعوت کا فائدہ اٹھانا ہے جس پر شکر لازم ٹھہرتا ہے، اس لیے یہاں {” لِقَوْمٍ يَّشْكُرُوْنَ “} فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔
پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔
جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» ۱؎ [42-الشورى:28] ’ وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ ‘
ایک اور آیت میں ہے: ’ رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘ ۱؎ [30-الروم:50]
بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔
قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔
پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔
اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» ۱؎ [3-آل عمران:37] اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر تفاوت الأراضي التي ينزل عليها المطر، فقال: {والبلدُ الطيِّب}؛ أي: طيب التربة والمادة، إذا نزل عليه المطر؛ {يخرج نباتُهُ}: الذي هو مستعدٌّ له {بإذن ربِّه}؛ أي: بإرادة الله ومشيئته، فليست الأسباب مستقلَّةً بوجود الأشياء حتى يأذن الله بذلك. {والذي خَبُثَ}: من الأراضي {لا يخرُجُ إلَّا نَكِداً}؛ أي: إلا نباتاً خاسًّا لا نفع فيه ولا بركة. {كذلك نصرِّف الآيات لقوم يشكرونَ}؛ أي: ننوِّعها، ونبيِّنها، ونضرب فيها الأمثال، ونسوقها لقوم يشكرون الله بالاعتراف بنعمه والإقرار بها وصرفها في مرضاة الله؛ فهم الذين ينتفعون بما فصل الله في كتابه من الأحكام والمطالب الإلهية؛ لأنَّهم يرونها من أكبر النعم الواصلة إليهم من ربهم، فيتلقونها مفتقرين إليها فرحين بها، فيتدبَّرونها ويتأمَّلونها، فيبين لهم من معانيها بحسب استعدادهم.
وهذا مثالٌ للقلوب حين ينزل عليها الوحي الذي هو مادةُ الحياة كما أن الغيث مادة الحيا؛ فإن القلوب الطيبة حين يجيئها الوحي تقبله وتعلمه وتنبُتُ بحسب طيب أصلها وحسن عنصرها، وأما القلوب الخبيثة التي لا خير فيها؛ فإذا جاءها الوحي؛ لم يجد محلاًّ قابلاً، بل يجدها غافلة معرضة أو معارضة، فيكون كالمطر الذي يمرُّ على السباخ والرمال والصخور فلا يؤثِّر فيها شيئاً، وهذا كقوله تعالى: {أنزل من السماءِ ماءً فسالتْ أوديةٌ بِقَدَرِها فاحتملَ السيلُ زبداً رابياً ... } الآيات.