اور وہی ہے جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کچھ پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
En
اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو
اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَهُوَالَّذِیْیُرْسِلُالرِّیٰحَبُشْرًۢابَیْنَیَدَیْرَحْمَتِهٖ ﴾”اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والى اس کی رحمت (بارش) سے پہلے“ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں ﴿ حَتّٰۤىاِذَاۤاَقَلَّتْ ﴾”یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں “ یعنی ہوائیں ﴿ سَحَابً٘اثِقَالًا ﴾”بھاری بادلوں کو“ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں ﴿ سُقْنٰهُلِبَلَدٍمَّؔیِّتٍ ﴾”تو ہانک دیتے ہیں ہم اس (بادل) کو ایک مردہ شہر کی طرف“ اس علاقے کے حیوانات ہلاکت کے قریب اور وہاں کے باسی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چلے تھے ﴿ فَاَنْزَلْنَابِهِالْمَآءَؔ ﴾”پھر اس (بادل) سے مینہ برساتے ہیں۔“ یعنی اس بادل کے ذریعے سے ہم نے اس مردہ زمین پر خوب پانی برسایا، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو مسخر کیا جو بادلوں کو پانی سے لبریز کرتی ہے اور دوسری ہوا اللہ کے حکم سے ان بادلوں کو لخت لخت کر کے بکھیرتی ہے ﴿ فَاَخْرَجْنَابِهٖمِنْكُ٘لِّالثَّ٘مَرٰتِ ﴾”پھر نکالتے ہیں ہم اس سے ہر طرح کے پھل“ پس وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوش ہو جاتے ہیں اور اس کی بھلائی سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ﴿كَذٰلِكَنُخْرِجُالْمَوْتٰىلَعَلَّكُمْتَذَكَّـرُوْنَ ﴾”اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو“ یعنی جس طرح ہم نے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو نباتات کے ذریعے سے زندہ کیا اسی طرح ہم مردوں کو، جب وہ اپنی قبروں میں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی بن چکے ہوں گے، زندہ کریں گے۔ یہ استدلال بہت واضح ہے دونوں امور میں کوئی فرق نہیں۔ زندگی بعد موت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرنا۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کا انکار کرنے والا اس کے نظائر کا مشاہدہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ عناد اور محسوسات کے انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چشم غفلت سے دیکھنے کی بجائے چشم عبرت سے ان میں غور کرنے اور تدبر و تفکر کی ترغیب دی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
بين تعالى أثراً من آثار قدرته ونفحة من نفحات رحمته، فقال: {وهو الذي يرسل الرياح بشراً بين يدي رحمته}؛ أي: الرياح المبشرات بالغيث، التي تثيره بإذن الله من الأرض، فيستبشر الخلق برحمة الله، وترتاح لها قلوبهم قبل نزوله. {حتى إذا أقلَّت}: الرياح {سحاباً ثقالاً}: قد أثاره بعضها، وألفه ريحٌ أخرى وألقحه ريح أخرى، {سُقْناه لبلدٍ ميِّتٍ}: قد كادت تهلك حيواناتُهُ وكاد أهله أن ييأسوا من رحمة الله. {فأنزلنا به}؛ أي: بذلك البلد الميت {الماء}: الغزير من ذلك السحاب، وسخَّر الله له ريحاً تدره وريحاً تفرِّقه بإذن الله. فأنبتنا به من كلِّ الثمرات: فأصبحوا مستبشرين برحمة الله، راتعين بخير الله. وقوله: {كذلك نخرِجُ الموتى لعلَّكم تَذَكَّرون}؛ أي: كما أحيينا الأرض بعد موتها بالنبات كذلك نخرج الموتى من قبورهم بعدما كانوا رفاتاً متمزِّقين. وهذا استدلال واضح؛ فإنه لا فرق بين الأمرين؛ فمنكِرُ البعثِ استبعاداً له مع أنه يرى ما هو نظيره من باب العناد وإنكار المحسوسات. وفي هذا الحثُّ على التذكُّر والتفكُّر في آلاء الله والنظر إليها بعين الاعتبار والاستدلال لا بعين الغفلة والإهمال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔