ترجمہ و تفسیر — سورۃ التغابن (64) — آیت 17

اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
اگر تم اللہ کو قرض دو گے، اچھا قرض تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان، بے حد بردبارہے۔ En
اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے
En
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راه میں خرچ کرو گے) تو وه اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناه بھی معاف فرما دے گا۔ اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17) ➊ { اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۵) کی تفسیر۔
➋ { وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌ:} الله { شَكُوْرٌ } (بڑا قدر دان) ہے کہ تھوڑا سا خرچ کرنے پر اسے بے حساب بڑ ھاتا ہے اور گناہ بھی بخشتا ہے اور { حَلِيْمٌ } (بے حد بردباد) ہے کہ بڑی بڑی غلطیوں پر بھی فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں ازواج و اولاد کے ساتھ معاملے میں شکر و حلم اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میاں بیوی اور والد و اولاد دونوں ایک دوسرے کے معمولی حسن سلوک کی بھی قدر کریں اور ایک دوسرے کی کو تاہیوں پر برد باری سے کام لیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ 17۔ 2 یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ 17۔ 3 وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اگر تم اللہ کو قرض حسن [26] دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اور اللہ بڑا قدردان [27] اور بردبار ہے
[26] تشریح کے لئے سورۃ الحدید کی آیت نمبر 11 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔
[27] قدردانی کی بات یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی کچھ مال اس کی راہ میں خرچ کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور اس کا تحمل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے پر فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو معاف بھی کر دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی سزا میں تخفیف بھی کر دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ }۔ [صحیح بخاری:7288]‏‏‏‏
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:102]‏‏‏‏ کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ’ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے ‘، لیکن اب فرما دیا کہ ’ اپنی طاقت کے مطابق ‘۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔‏‏‏‏
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے ‘۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر:9]‏‏‏‏ کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ’ جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ ‘ }۔ [صحیح مسلم:758]‏‏‏‏
پس فرماتا ہے ’ وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرۃ:245]‏‏‏‏ ’ کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا ‘۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا: ﴿ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَ٘رْضًا حَسَنًا اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ یَغْفِرْ لَكُمْ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّؔیِّاٰتِ (ھود:11؍114) بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
﴿ وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌ اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنْ یُّؤَخِّ٘رُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى (فاطر:35؍45) اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔
﴿ وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم رغَّب تعالى في النفقة، فقال: {إن تقرِضوا الله قرضاً حسناً}: وهو كلُّ نفقة كانت من الحلال إذا قَصَدَ بها العبدُ وجه الله تعالى ووضعها موضعها، {يضاعِفْه لكم}: النفقة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعفٍ إلى أضعافٍ كثيرة، {و} مع المضاعفة أيضاً {يَغْفِرْ} اللهُ {لكم}: بسبب الإنفاق والصدقة ذنوبَكم؛ فإنَّ الذُّنوبَ يكفرها [اللَّهُ] بالصدقات والحسنات؛ {إنَّ الحسنات يُذْهِبْنَ السيئات}. {والله شكورٌ حليمٌ}: لا يعاجِلُ من عصاه، بل يُمْهِلُه ولا يُهْمِلُه، {ولو يؤاخِذُ اللهُ الناس بما كَسَبوا ما ترك على ظهرها من دابَّةٍ ولكن يؤخِّرُهم إلى أجلٍ مسمًّى}، والله تعالى شكورٌ، يقبلُ من عباده اليسير من العمل، ويجازيهم عليه الكثير من الأجر، ويشكر تعالى لمن تحمَّل من أجله المشاقَّ والأثقال وأنواع التَّكاليف الثقال، ومن ترك شيئاً لله؛ عوَّضه الله خيراً منه.