تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مَا اسْتَطَعْتُمْ:} اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے لیے اللہ کے احکام پر اتنا عمل ہی فرض ہے جتنی اس میں طاقت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [البقرۃ: ۲۸۶]”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ جہاں آدمی بے بس ہو جائے وہاں مؤاخذہ نہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۷۳۔ انعام: ۱۱۹۔ نحل: ۱۰۶) مؤاخذہ اسی صورت میں ہے جب آدمی استطاعت کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔رہی یہ بات کہ آدمی بہانہ بنا لے اور فرض کر لے کہ فلاں کام میری استطاعت سے باہر ہے، حالانکہ وہ اس کی استطاعت میں ہو تو اس پر اس کا ضرور مؤاخذہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا علم ہے۔
➌ { وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِيْعُوْا:} یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے سمع و طاعت کی بیعت لیا کرتے تھے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیعت والی حدیث کے الفاظ ہیں: [بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ] [بخاري، الأحکام، باب کیف یبایع الإمام الناس؟: ۷۱۹۹] ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش دلی اور ناگواری (ہر حال) میں سننے اور فرماں برداری کرنے پر بیعت کی۔“
➍ {وَ اَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ: ” خَيْرًا “ ”يَكُنْ“} کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جو یہاں {” اَنْفِقُوْا “} کے جواب میں مقدر ہے۔ یعنی خرچ کرو یہ تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ یہ مال کے فتنے کا تریاق ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے، جمع کر کے نہ رکھا جائے۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت کعبہ کے سائے میں تھے اور فرما رہے تھے: [هُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ] ”وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم!“ میں نے کہا: ”میرا کیا معاملہ ہے، کیا مجھ میں کوئی (خسارے والی) چیز دکھائی دے رہی ہے، میرا معاملہ کیا ہے؟“ خیر میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور آپ یہی فرماتے رہے۔ مجھ میں خاموش رہنے کی سکت نہ رہی، اللہ کو جو منظور تھا (یعنی بے قراری اور اضطراب) وہ مجھ پر طاری ہوگیا، تو میں نے پوچھا: ”وہ کون ہیں یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [هُمُ الْأَكْثَرُوْنَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا] [بخاري، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي صلی اللہ علیہ وسلم ؟: ۶۶۳۸۔ مسلم: ۹۹۰] ”وہ لوگ جو بہت زیادہ اموال والے ہیں، سوائے اس کے جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح (بے دریغ) خرچ کرے۔“
➎ { ” اَنْفِقُوْا “} (خرچ کرو)کا مصرف ذکر نہیں فرمایا، تاکہ عام رہے اور فرض و نفل ہر قسم کا خرچ کرتے رہنے کی تاکید ہو جائے۔ اس میں اپنی ذات پر، اہل و عیال پر اور ان لوگوں پر خرچ کرنا بھی شامل ہے جن کی پرورش اس کے ذمے ہے۔ ضرورت کی دوسری جگہوں پر بھی، صدقات کے ان آٹھ مصارف میں بھی جن کا سورۂ توبہ کی آیت (۶۰) {” اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ …“} میں ذکر ہے اور ان میں سے بھی خاص طور پر ان لوگوں پر جو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ(۲۷۳) کی تفسیر۔
➏ {وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حشر کی آیت (۹) کی تفسیر۔ ”شح“سے بچنے کی تاکید سے ظاہر ہے کہ اہل و عیال پر خرچ بھی اللہ کے ساتھ قرض حسن کے معاملے میں شامل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[25] اس کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ حشر کی آیت نمبر 9 کا حاشیہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بخاری و مسلم میں ہے { جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ }۔ [صحیح بخاری:7288]
بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ’ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے ‘، لیکن اب فرما دیا کہ ’ اپنی طاقت کے مطابق ‘۔
چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
پھر فرماتا ہے ’ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے ‘۔
«وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ’ جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ‘۔
پس فرماتا ہے ’ وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرۃ:245] ’ کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا ‘۔
ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بتقواه التي هي امتثالُ أوامره واجتنابُ نواهيه، وقيَّد ذلك بالاستطاعة والقدرة. فهذه الآية تدلُّ على أنَّ كلَّ واجبٍ عجز عنه العبد يسقُطُ عنه، وأنَّه إذا قدر على بعض المأمور وعجز عن بعضه؛ فإنَّه يأتي بما يقدر عليه ويسقُطُ عنه ما يعجزُ عنه؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -: «إذا أمرتُكم بأمرٍ؛ فأتوا منه ما استطعتُم ». ويدخل تحت هذه القاعدة الشرعيَّة من الفروع ما لا يدخُل تحت الحصر. وقوله: {واسمعوا}؛ أي: اسمعوا ما يعِظُكم الله به وما يَشْرَعُه لكم من الأحكام واعلموا ذلك وانقادوا له، {وأطيعوا}: الله ورسولَه في جميع أموركم، {وأنفِقوا}: من النفقات [الشرعية] الواجبة والمستحبَّة؛ يَكُنْ ذلك الفعل منكم خيراً لكم في الدُّنيا والآخرة؛ فإنَّ الخير كلَّه في امتثال أوامر الله [تعالى] وقَبول نصائحه والانقياد لشرعه، والشرَّ كلَّه في مخالفة ذلك، ولكن ثَمَّ آفةٌ تمنعُ كثيراً من الناس من النفقة المأمور بها، وهو الشحُّ المجبولة عليه أكثر النفوس؛ فإنَّها تشحُّ بالمال وتحبُّ وجوده وتكره خروجه من اليد غاية الكراهة، فمن وقاه اللَّهُ [تعالى] {شُحَّ نفسِه}: بأن سمحت نفسه بالإنفاق النافع لها، {فأولئك هم المفلحونَ}: لأنَّهم أدركوا المطلوب ونجوا من المرهوب، بل لعلَّ ذلك شاملٌّ لكلِّ ما أمر به العبدُ ونهي عنه؛ فإنَّه إن كانت نفسُه شحيحةً لا تنقاد لما أمرت به ولا تخرِج ما قِبَلَها؛ لم يفلح، بل خسر الدنيا والآخرة، وإن كانت نفسه نفساً سمحة مطمئنةً منشرحةً لشرع الله طالبةً لمرضاته ؛ فإنَّها ليس بينها وبين فعل ما كلِّفت به إلاَّ العلم به ووصول معرفته إليها والبصيرة بأنَّه مُرضٍ لله [تعالى]، وبذلك تفلح وتنجح وتفوز كلَّ الفوز.