تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ التغابن (64) — آیت 17

اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
اگر تم اللہ کو قرض دو گے، اچھا قرض تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان، بے حد بردبارہے۔ En
اگر تم خدا کو (اخلاص اور نیت) نیک (سے) قرض دو گے تو وہ تم کو اس کا دوچند دے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اور خدا قدر شناس اور بردبار ہے
En
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راه میں خرچ کرو گے) تو وه اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناه بھی معاف فرما دے گا۔ اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا: ﴿ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَ٘رْضًا حَسَنًا اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ یَغْفِرْ لَكُمْ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّؔیِّاٰتِ (ھود:11؍114) بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
﴿ وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌ اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنْ یُّؤَخِّ٘رُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى (فاطر:35؍45) اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔
﴿ وَاللّٰهُ شَكُوْرٌ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم رغَّب تعالى في النفقة، فقال: {إن تقرِضوا الله قرضاً حسناً}: وهو كلُّ نفقة كانت من الحلال إذا قَصَدَ بها العبدُ وجه الله تعالى ووضعها موضعها، {يضاعِفْه لكم}: النفقة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعفٍ إلى أضعافٍ كثيرة، {و} مع المضاعفة أيضاً {يَغْفِرْ} اللهُ {لكم}: بسبب الإنفاق والصدقة ذنوبَكم؛ فإنَّ الذُّنوبَ يكفرها [اللَّهُ] بالصدقات والحسنات؛ {إنَّ الحسنات يُذْهِبْنَ السيئات}. {والله شكورٌ حليمٌ}: لا يعاجِلُ من عصاه، بل يُمْهِلُه ولا يُهْمِلُه، {ولو يؤاخِذُ اللهُ الناس بما كَسَبوا ما ترك على ظهرها من دابَّةٍ ولكن يؤخِّرُهم إلى أجلٍ مسمًّى}، والله تعالى شكورٌ، يقبلُ من عباده اليسير من العمل، ويجازيهم عليه الكثير من الأجر، ويشكر تعالى لمن تحمَّل من أجله المشاقَّ والأثقال وأنواع التَّكاليف الثقال، ومن ترك شيئاً لله؛ عوَّضه الله خيراً منه.