(آیت 18){ عٰلِمُالْغَيْبِوَالشَّهَادَةِالْعَزِيْزُالْحَكِيْمُ:} یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والد و اولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ وہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، وہ زبردست ہے اور دانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ عٰؔلِمُالْغَیْبِوَالشَّهَادَةِ ﴾”وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔“ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الْ٘عَزِیْزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الْحَكِیْمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{عالمُ الغيبِ والشهادةِ}؛ أي: ما غاب من العباد من الجنود التي لا يعلمها إلاَّ هو وما يشاهدونه من المخلوقات. {العزيزُ}: الذي لا يغالَب ولا يمانَع، الذي قهر جميع الأشياء. {الحكيمُ}: في خلقه وأمره، الذي يضع الأشياء مواضعها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔